امریکا نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دے دیا، ٹرمپ کے سخت بیانات

0
9
امریکا نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کا عندیہ دے دیا، ٹرمپ کے سخت بیانات

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو امریکا مزید سخت فوجی اقدامات کر سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تقریباً مکمل ہو چکے ہیں اور اب صرف معاہدے پر دستخط باقی ہیں، تاہم ان کے بقول ایرانی قیادت فیصلہ سازی میں تاخیر کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور اسی مقصد کے لیے ایک مؤثر معاہدہ ضروری ہے۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو حالیہ واقعات کے بعد اپنے دفاع اور مفادات کے تحفظ کے لیے کارروائی کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران کے اہم انفراسٹرکچر اور توانائی کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی قیادت کی درخواست پر ایران کے خلاف بعض اقدامات مؤخر کیے گئے تھے۔ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے سابق امریکی انتظامیہ کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت ایسا معاہدہ چاہتی ہے جو ایران کے ممکنہ ایٹمی پروگرام کو مؤثر طور پر محدود کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا مشرق وسطیٰ میں استحکام اور امن کا خواہاں ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ایران کو بھی سنجیدگی دکھانا ہوگی۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایران کے عسکری ڈھانچے کے حوالے سے سخت دعوے کیے اور کہا کہ تہران کو مذاکراتی عمل میں مزید تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بھی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو مزید اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ حالیہ دنوں آبنائے ہرمز کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا۔ اس واقعے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں، جبکہ واشنگٹن نے تہران کو مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

Leave a reply