ایران کا امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل، قومی خودمختاری کے دفاع کا عزم

0
8
ایران کا امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل، قومی خودمختاری کے دفاع کا عزم

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ مزید کارروائیوں کے اشاروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ، دھمکی یا جارحیت کے سامنے جھکنے والا نہیں اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ملک اپنی داخلی یکجہتی اور ماہر افرادی قوت کی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتا ہے۔ ان کے مطابق کسی قوم کے بنیادی ڈھانچے، بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں طاقت کی علامت نہیں بلکہ بے چینی اور ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور بیرونی دباؤ سے مرعوب نہیں ہوگا۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی امریکی بیانات پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے تیار ہے اور ملک کے دفاع میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی جائے گی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری معاملات میں پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں مزید سخت اقدامات اور ممکنہ حملوں کا عندیہ دیا تھا۔ امریکی صدر نے ایرانی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار ایک دوسرے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال خطے میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتی ہے، تاہم سفارتی کوششوں کے ذریعے تنازع کے حل کے امکانات بھی موجود ہیں۔

Leave a reply