فلم ’پی کے‘ کے مختصر کردار نے ایک بھکاری کی زندگی بدل دی

0
10
فلم ’پی کے‘ کے مختصر کردار نے ایک بھکاری کی زندگی بدل دی

بالی وڈ کی کامیاب فلم پی کے میں چند سیکنڈ کے لیے نظر آنے والے ایک شخص کی حقیقی زندگی بعد ازاں حیران کن انداز میں بدل گئی۔ یہ شخص منوج رائے تھا، جو فلم میں ایک نابینا بھکاری کے روپ میں دکھائی دیا تھا۔

2014 میں ریلیز ہونے والی اس فلم کے ایک مختصر منظر میں مرکزی کردار پی کے ایک بھکاری کے کشکول سے رقم نکالتا ہے۔ اس کردار کے لیے متعدد حقیقی بھکاریوں میں سے منوج رائے کا انتخاب کیا گیا تھا۔

فلم میں کام کرنے کے عوض منوج کو 16 ہزار بھارتی روپے معاوضہ ملا۔ شوٹنگ مکمل ہونے کے بعد وہ اپنے آبائی گاؤں، ریاست آسام کے ضلع سونیت پور، واپس چلا گیا۔ مقامی لوگوں نے اس کا خیرمقدم کیا اور اس نے بھیک مانگنے کا پیشہ ہمیشہ کے لیے ترک کر دیا۔

معاوضے کی رقم اور شہرت سے ملنے والے اعتماد کے بعد منوج نے اپنے گاؤں میں ایک چھوٹی کریانہ دکان قائم کی، جسے وہ آج بھی چلا رہا ہے۔

منوج کا تعلق ایک انتہائی غریب خاندان سے تھا۔ اس کی والدہ کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا جبکہ والد بیماری کا شکار تھے۔ مالی مشکلات کے باعث وہ پانچویں جماعت کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور روزگار کی تلاش میں دہلی پہنچ گیا۔

وہ وہاں نابینا ہونے کا تاثر دے کر بھیک مانگتا تھا۔ اسی دوران فلم کی ٹیم نے اس سے رابطہ کیا اور اداکاری کے بارے میں پوچھا۔ منوج نے جواب دیا کہ دو وقت کی روٹی کے لیے وہ روزانہ اداکاری ہی کر رہا ہے۔

بعد ازاں اسے آڈیشن کے لیے بلایا گیا جہاں کئی دیگر امیدوار بھی موجود تھے، تاہم انتخاب اس کا ہوا۔ شوٹنگ کے دوران اسے پہلی بار ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کا موقع ملا، جو اس کے لیے ایک ناقابلِ یقین تجربہ تھا۔

منوج نے بعد میں بتایا کہ کچی آبادیوں میں رہتے ہوئے اسے اکثر پانی کی قلت کا سامنا رہتا تھا، لیکن ہوٹل کی سہولیات اور سوئمنگ پول سے بھرپور لطف اٹھانے کا موقع ملا۔ فلم میں کام کرنے کے بعد اس کی پہچان بڑھی اور لوگ اسے مزاحاً ’’پی کے ہنی سنگھ‘‘ کے نام سے پکارنے لگے۔

منوج رائے مستقبل میں آسامی اور بنگالی فلموں میں مزید کام کرنے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔ اس کی کہانی اس بات کی مثال ہے کہ بعض اوقات زندگی بدلنے کے لیے صرف ایک مختصر موقع ہی کافی ہوتا ہے۔

Leave a reply