جنتر منتر: بھارت میں احتجاجی سیاست کی علامت کیوں؟

0
33
جنتر منتر: بھارت میں احتجاجی سیاست کی علامت کیوں؟

نئی دہلی میں واقع تاریخی مقام جنتر منتر ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو امریکہ سے واپسی کے بعد جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔ اس اعلان کے بعد یہ سوال دوبارہ زیر بحث آ گیا ہے کہ بھارت میں اکثر عوامی احتجاج اور دھرنوں کے لیے جنتر منتر ہی کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے۔

جنتر منتر دراصل 1724 میں جے پور کے حکمران مہاراجہ سوائی جے سنگھ دوم کی جانب سے تعمیر کی گئی ایک فلکیاتی رصدگاہ ہے۔ اس کا مقصد آسمانی اجسام کی حرکات کا مشاہدہ اور فلکیاتی حساب کتاب تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تاریخی مقام اپنی سائنسی اہمیت کے علاوہ سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی بھی نمایاں علامت بن گیا۔

اس مقام کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ اس کا محل وقوع ہے۔ جنتر منتر بھارتی پارلیمنٹ، راشٹرپتی بھون اور متعدد اہم سرکاری دفاتر کے قریب واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والے احتجاجات حکومتی اداروں اور قومی میڈیا کی فوری توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران کسانوں، طلبہ، سرکاری ملازمین، سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے مطالبات کے حق میں یہاں متعدد مظاہرے کیے ہیں۔ 2011 میں سماجی کارکن انا ہزارے کی بدعنوانی مخالف تحریک نے بھی جنتر منتر سے ہی زور پکڑا تھا، جس نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے۔

یہ مقام عوامی احتجاج کے لیے اس قدر معروف ہو چکا ہے کہ اسے بعض مبصرین “مظاہرین کی جنت” بھی قرار دیتے ہیں۔ احتجاجی سرگرمیوں کی کثرت کے باعث یہاں بینرز، جھنڈوں، ٹوپیوں اور دیگر ضروری سامان کی دستیابی بھی آسان ہو گئی ہے۔

اگرچہ 2017 میں نیشنل گرین ٹریبونل نے ماحولیاتی خدشات کے باعث یہاں احتجاجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی، تاہم ایک سال بعد سپریم کورٹ نے اس پابندی کو معطل کرتے ہوئے نئے ضوابط کے تحت احتجاج کی اجازت بحال کر دی۔

ابھیجیت دیپکے اور ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ وہ تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانی بے ضابطگیوں اور احتساب کے مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جنتر منتر ایسا مقام ہے جہاں سے اٹھنے والی آواز پورے ملک میں سنی جا سکتی ہے، اسی لیے انہوں نے اپنے احتجاج کے لیے اسی مقام کا انتخاب کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جنتر منتر آج صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ بھارتی جمہوریت میں عوامی اظہارِ رائے اور احتجاجی سیاست کی ایک مضبوط علامت بن چکا ہے۔

Leave a reply