
کراچی: بریسٹ کینسر کے علاج کے میدان میں ایک نئی طبی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں ماہرین نے ایک جدید جینیاتی ٹیسٹ تیار کیا ہے جو مریضوں کے علاج کے فیصلوں میں رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کن مریضوں کو کیموتھراپی کی ضرورت ہے اور کن کو اس سے بچایا جا سکتا ہے، جس سے غیر ضروری علاج اور اس کے مضر اثرات سے بچاؤ ممکن ہوگا۔
بین الاقوامی سطح پر کی گئی تحقیق میں تقریباً چار ہزار مریض خواتین کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ کم خطرے والے کیسز میں صرف ہارمون تھراپی ہی مؤثر ثابت ہوئی۔ ایسے مریضوں میں کیموتھراپی شامل کرنے سے علاج کے نتائج میں نمایاں فرق نہیں دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے جینیاتی ٹیسٹ مستقبل میں کینسر کے علاج کو زیادہ ذاتی نوعیت (personalized) اور بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جس سے مریضوں کو کم تکلیف دہ اور زیادہ مؤثر علاج فراہم کیا جا سکے گا۔









