چین کا نیا خلائی مشن: تین خلا باز تیانگونگ اسٹیشن روانہ، ایک سالہ قیام کی تیاری

0
4
چین کا نیا خلائی مشن: تین خلا باز تیانگونگ اسٹیشن روانہ، ایک سالہ قیام کی تیاری

چین نے اپنے خلائی پروگرام میں ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے تین خلا بازوں کو خلائی اسٹیشن تیانگونگ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ اس مشن کی خاص بات یہ ہے کہ عملے میں شامل ایک خلا باز کو تقریباً ایک سال تک خلا میں رہنے کے لیے منتخب کیا جا سکتا ہے، جو چین کے لیے اب تک کا طویل ترین انسانی خلائی مشن ہوگا۔

سرکاری معلومات اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق شین ژو-23 خلائی جہاز کو شمال مغربی چین کے جیوچوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانگ مارچ-2 ایف راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔ اس مشن میں کمانڈر ژو یانگ ژو، پائلٹ ژانگ یوآن ژی اور پے لوڈ اسپیشلسٹ لی جیا ینگ شامل ہیں، جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے پہلے خلا باز ہیں۔

چینی خلائی ادارے کے مطابق عملے میں سے ایک رکن کو طویل مدتی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا، تاہم حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ اس مشن کا مقصد انسانی جسم پر خلا کے طویل اثرات کا مطالعہ کرنا ہے، جن میں ہڈیوں کی کمزوری، تابکاری کے اثرات اور ذہنی و نفسیاتی دباؤ شامل ہیں۔

چین گزشتہ چند برسوں سے اپنے خلائی پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے اور 2021 سے تیانگونگ اسٹیشن پر چھ ماہ کے مشنز معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔ تاہم اس بار کا مشن مدت کے لحاظ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دنیا ایک بار پھر چاند کی جانب انسانی مشنز کی دوڑ میں داخل ہو چکی ہے۔

امریکا اور چین دونوں آنے والے برسوں میں چاند پر انسانی مشنز کے منصوبے رکھتے ہیں، جبکہ مستقبل میں مریخ تک رسائی بھی ان اہداف میں شامل ہے۔ چین نے روس کے تعاون سے 2035 تک چاند پر مستقل بیس قائم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اس مشن کے دوران جدید ٹیکنالوجی کی آزمائش بھی کی جائے گی، جن میں خودکار ڈاکنگ سسٹم شامل ہے، جو مستقبل کے قمری مشنز کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مزید برآں خلا میں انسانی خلیوں اور اسٹیم سیلز پر تحقیق بھی اس مشن کا حصہ ہے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ طویل مدت تک خلا میں انسانی زندگی اور افزائش پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر چین 2030 سے پہلے انسان کو چاند پر اتارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ عالمی خلائی دوڑ میں ایک بڑی پیش رفت ہوگی اور خلا کی تسخیر میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھی جائے گی۔

Leave a reply