
پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 7 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور صنعتوں کی منتقلی کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی کے خصوصی اقتصادی زون میں عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو قرضوں اور امداد کے بجائے سرمایہ کاری، مہارت اور مشترکہ ترقی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اربوں ڈالر کی مفاہمتی یادداشتوں کو جلد عملی معاہدوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان اب تک پانچ بزنس کانفرنسوں میں 20 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی 200 سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 30 فیصد عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
کانفرنس کے دوران چینی کمپنی ہاولو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور فوجی فرٹیلائزر کے درمیان کھاد کی پیداوار سے متعلق 1.12 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ آئی بی آئی بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی اور آر آئی سی کے درمیان زرعی مشینری، ایگرو کیمیکل اور ملتان میں ریجنل آفس کے قیام سے متعلق 10 کروڑ ڈالر کی مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، تاہم اس میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج اور مشینی کاشت کاری کے فروغ سے پاکستان آئندہ پانچ سے سات برس میں چین کو 10 ارب ڈالر تک زرعی مصنوعات برآمد کر سکتا ہے۔
انہوں نے چینی کمپنیوں کو مشترکہ منصوبے قائم کرنے اور پاکستان میں تیار مصنوعات عالمی منڈیوں میں برآمد کرنے کی بھی دعوت دی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سی پیک 2.0 اب صرف بنیادی ڈھانچے تک محدود نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل سلک روٹ کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس میں فائبر آپٹک، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز، ای کامرس اور آئی ٹی تعاون شامل ہیں۔
دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف نے علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا جہاں چیئرمین جوو سائی نے ان کا استقبال کیا۔ ملاقات میں ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے پر بھی اتفاق ہوا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سروسز، ڈیجیٹل تجارت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں، فِن ٹیک اور صحت کے شعبے میں جدت کو فروغ دینا ہے۔
معاہدوں کے تحت پاکستانی ادارہ اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے مقامی اے آئی ماڈلز تیار کریں گے جبکہ پانچ لاکھ افراد کے لیے مہارتوں کے فروغ کے پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اے آئی ہیکاتھونز اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق سرگرمیوں کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔
ڈی اے ایم او اکیڈمی اور اسکائی 47 پاکستان کے مختلف شہروں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا بیماریوں کی تشخیص کا نظام متعارف کروائیں گے، جبکہ پاکستانی جامعات میں جدید ٹیکنالوجی کی استعداد بڑھانے کے لیے مشترکہ پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔
مزید برآں، علی بابا اور ایس ایم ای ڈی اے کم از کم 2 ہزار پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ایک خصوصی “پاکستان پویلین” میں شامل کریں گے تاکہ انہیں عالمی منڈیوں اور اے آئی سے چلنے والے کاروباری ٹولز تک رسائی حاصل ہو سکے۔
چینی کمپنی کوکو ٹیک پاکستان میں “Buy Now, Pay Later” سروس متعارف کروائے گی، جس کے لیے ابتدائی طور پر 30 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ مالی شمولیت اور ڈیجیٹل تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری، روزگار، جدت اور تکنیکی تعاون کے نئے مواقع پیدا کریں گے اور پاکستان کو خطے میں ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے مرکز کے طور پر مستحکم کریں گے۔









