عید الاضحیٰ: شدید گرمی میں قربانی کے گوشت کی حفاظت اور استعمال سے متعلق ماہرین صحت کی اہم ہدایات

0
30
عید الاضحیٰ: شدید گرمی میں قربانی کے گوشت کی حفاظت اور استعمال سے متعلق ماہرین صحت کی اہم ہدایات

عید الاضحیٰ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں شدید گرمی اور مرطوب موسم کے باعث ماہرین صحت نے شہریوں کو گوشت کے محفوظ استعمال اور ذخیرہ کرنے کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ہر سال عید کے ابتدائی دو روز میں فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں اضافہ دیکھا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ گرم موسم میں گوشت کی غلط ہینڈلنگ ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کٹا ہوا گوشت اگر دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک کمرے کے درجہ حرارت میں رکھا جائے تو اس میں بیکٹیریا جیسے سالمونیلا اور ای۔کولائی تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، جو پیٹ کے سنگین امراض کا سبب بنتے ہیں۔

ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ قربانی کا گوشت کھلی دھوپ میں رکھنے کے بجائے سایہ دار اور صاف جگہ پر رکھا جائے، جبکہ مکھیوں اور آلودگی سے بچانے کے لیے پنکھے کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کلیجی، گردے اور دل جیسے اعضا کو عام گوشت سے الگ رکھا جائے اور انہیں جلد از جلد استعمال کیا جائے تاکہ ان کی تازگی برقرار رہے۔

گوشت کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے جلد از جلد فریج یا فریزر میں منتقل کرنا ضروری ہے، خاص طور پر دو گھنٹے کے اندر اندر۔ فریز کرنے کے لیے بہتر ہے کہ بڑے ٹکڑوں کے بجائے چھوٹے پیکٹس بنائے جائیں تاکہ ٹھنڈک جلد اور یکساں طور پر پہنچ سکے۔ فریج کو زیادہ بھرنے سے بھی گریز کیا جائے کیونکہ اس سے ٹھنڈک کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

کھانے پکانے کے دوران گوشت کو مکمل طور پر اچھی طرح پکانا ضروری ہے، کیونکہ ادھ پکا گوشت جراثیم کو ختم نہیں کر پاتا اور بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ خراب یا آلودہ گوشت کھانے کی صورت میں چند گھنٹوں میں متلی، قے، تیز بخار، پیٹ میں درد اور دست جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔

اگر کسی فرد، خصوصاً بچوں یا بزرگوں میں شدید کمزوری، منہ خشک ہونا یا پیشاب میں کمی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے، کیونکہ شدید گرمی میں پانی کی کمی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

Leave a reply