
عالمی اور مقامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی اور ٹریژری ییلڈز میں اضافہ سونے کی طلب پر دباؤ کا باعث بنے ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے بجائے دیگر مالیاتی اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ تقریباً 4,467 ڈالر فی اونس تک آگئی۔ اسی طرح امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ سیشن میں سونے کی قیمت مارچ کے آخر کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود اور امریکی ڈالر کی مضبوطی نے دیگر کرنسی رکھنے والے خریداروں کے لیے سونا مزید مہنگا کر دیا ہے، جس سے طلب میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈالر کی قدر حالیہ دنوں میں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر رہی۔
پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ آل پاکستان صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا ہزاروں روپے سستا ہو کر نئی سطح پر آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
ادھر عالمی سطح پر بھی سونے کی مجموعی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار رہا، جو مختلف معاشی عوامل اور سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔









