ایران کا مؤقف: کشیدگی کا حل سفارتکاری، جنگ نہیں

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران خطے میں امن اور سفارتکاری کا حامی ہے اور تہران کسی بھی تنازع کا سیاسی حل چاہتا ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والے BRICS وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم اگر ملک پر کوئی جنگ مسلط کی گئی تو وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایران ہمیشہ مذاکرات، سفارتی روابط اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
عباس عراقچی نے عالمی برادری اور برکس ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورتحال پر واضح مؤقف اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود تہران مذاکرات اور سفارتی عمل کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ یہ راستہ تجارتی جہازوں کیلئے کھلا ہے، تاہم جہازوں کو ایرانی بحری حکام کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ برکس اتحاد میں بھارت اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں، جبکہ خطے کی حالیہ صورتحال پر مختلف ممالک کے مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔









