مسجدِ اقصیٰ واقعہ اور سعودی عرب کا مؤقف

0
49
مسجدِ اقصیٰ واقعہ اور سعودی عرب کا مؤقف

مسجدِ اقصیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں حالیہ اسرائیلی اقدامات پر مختلف مسلم ممالک کی جانب سے شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانا اور مقبوضہ بیت المقدس کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

سعودی عرب نے عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مبینہ اشتعال انگیز کارروائیوں سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور مقدس اسلامی مقامات کے احترام کو یقینی بنائیں۔

بیان میں فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

مسجدِ اقصیٰ سے متعلق پیش آنے والے واقعات ہمیشہ عالمی سطح پر حساسیت پیدا کرتے ہیں، کیونکہ یہ مقام دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے تاکہ خطے میں امن، مذہبی احترام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave a reply