عالمی سطح پر دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ، 2025 میں بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے

0
15
عالمی سطح پر دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ، 2025 میں بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے

ایک تازہ بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فوجی اور دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ جاری ہے، اور 2025 میں یہ سطح گزشتہ 16 سال کی بلند ترین حد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
سویڈن کے معروف تحقیقی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق 2025 کے دوران عالمی دفاعی اخراجات میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد یہ مجموعی طور پر 2.9 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ رقم عالمی معیشت کے تقریباً 2.5 فیصد کے برابر ہے، جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپ اور ایشیا میں دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ اس رجحان کی بنیادی وجہ ہے۔ یورپ میں فوجی اخراجات 14 فیصد بڑھ کر 864 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایشیا اور اوشیانا کے خطے میں یہ بڑھ کر 681 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ، چین، روس، جرمنی اور بھارت دنیا کے سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل رہے، جو مجموعی عالمی اخراجات کا تقریباً 58 فیصد حصہ بناتے ہیں۔ امریکہ بدستور پہلے نمبر پر ہے، جس نے 2025 میں تقریباً 954 ارب ڈالر دفاع پر خرچ کیے۔
اگر امریکہ کو الگ کر کے دیکھا جائے تو دنیا کے دیگر ممالک میں دفاعی اخراجات میں مجموعی طور پر 9 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی عسکری تیاریوں کی عکاسی کرتا ہے۔
یورپ میں نیٹو ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ جاری رکھا، جبکہ ایشیا میں جاپان، آسٹریلیا، فلپائن اور دیگر ممالک نے بھی اپنی عسکری صلاحیت بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ اسی طرح چین اور تائیوان کے دفاعی اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ نے عالمی دفاعی اخراجات پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ یوکرین اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ کر رہا ہے جبکہ روس بھی فوجی ضروریات کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل مختص کر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب سب سے زیادہ دفاعی اخراجات کرنے والا ملک رہا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ افریقہ میں بھی مجموعی طور پر دفاعی اخراجات میں اضافہ دیکھا گیا، خاص طور پر الجزائر نمایاں رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث آئندہ برسوں میں بھی دفاعی اخراجات میں اضافہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

Leave a reply