
بھارت کی مرکزی حکومت نے واٹس ایپ کے متوقع نئے یوزر نیم فیچر پر فوری طور پر عملدرآمد روکنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیچر سے صارفین کی پرائیویسی اور سائبر سکیورٹی پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
حکومت نے میٹا انڈیا کے متعلقہ عہدیداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چند دنوں میں وضاحت طلب کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یہ فیچر بظاہر سہولت اور پرائیویسی میں بہتری کے لیے ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی موجود ہیں۔
نیا فیچر کیا ہے؟
واٹس ایپ کا یہ مجوزہ فیچر صارفین کو فون نمبر کے بجائے ایک منفرد یوزر نیم کے ذریعے رابطہ کرنے کی سہولت دے گا۔ اس سے قبل پلیٹ فارم پر بات چیت کے لیے فون نمبر شیئر کرنا لازمی ہوتا تھا، لیکن نئے نظام میں صارفین اپنی شناخت ایک مخصوص نام کے ذریعے ظاہر کر سکیں گے۔
اس تبدیلی کےتحت صارفین کسی بھی فرد کو براہ راست اسکا نمبر جانے بغیرپیغام بھیج سکیں گے، بالکل اسیطرح جیسے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہوتا ہے۔
حفاظتی اقدامات کا دعویٰ
میٹا کے مطابق اس فیچر میں کئی حفاظتی پرتیں شامل کی جا رہی ہیں تاکہ غلط استعمال کو کم کیا جا سکے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ معروف شخصیات اور سرکاری اداروں کے یوزر نیم پہلے ہی محفوظ رکھے جائیں گے تاکہ جعلی اکاؤنٹس نہ بن سکیں۔
مزید یہ کہ پہلی بار رابطہ کرنے والے صارفین کے لیے انتباہی پیغام اور ملک کی معلومات دکھانے کا نظام بھی شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ ایک اضافی سیکیورٹی آپشن بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں چار ہندسوں کا کوڈ شامل ہوگا، جو صرف اسی صورت میں رابطے کی اجازت دے گا جب دوسرا شخص وہ کوڈ جانتا ہو۔
خدشات اور اختلاف رائے
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی آن لائن دھوکہ دہی اور جعلی شناخت کے واقعات میں اضافہ کر سکتی ہے، کیونکہ یوزر نیم کی نقل کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق جعلساز معروف شخصیات کے نام سے ملتے جلتے اکاؤنٹس بنا کر صارفین کو دھوکہ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین کم از کم اپنے فون نمبر شیئر کریں تو اسپام اور سم سوئپ جیسے خطرات میں کمی آ سکتی ہے، اور یوزر نیم سسٹم مستقبل میں زیادہ محفوظ شناخت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
قانونی بحث بھی جاری
ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی کمپنی کو نیا فیچر لانے سے روکنے کے لیے واضح قانونی بنیاد موجود ہونی چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر قانون نافذ کرنا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
فی الحال میٹا نے بھارتی حکومت کے نوٹس کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔ اس فیچر کے مستقبل کا انحصار اب حکومتی فیصلے اور اضافی حفاظتی شرائط پر ہوگا۔ دوسری جانب امکان ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں یہ سہولت مرحلہ وار متعارف کرائی جائے گی۔









