ٹرمپ کا سفارتی اقدام: امریکی وفد پاکستان روانہ

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم سفارتی اقدام اٹھایا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ وفد اسلام آباد میں متوقع مذاکرات میں شرکت کرے گا، جہاں ان کی ملاقات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے متوقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایک پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے اس ملاقات کی درخواست کی گئی تھی اور براہِ راست بات چیت میں دلچسپی ظاہر کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت امریکا میں رہ کر صورتحال کی نگرانی کریں گے، تاہم ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طور پر پاکستان بھیجا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک مؤثر ثالث قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی تعطل کو کم کرنے اور ممکنہ حل تلاش کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان بات چیت میں پیش رفت ہوئی تو اعلیٰ سطحی روابط کو مزید فروغ دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا ہے کہ وہ اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں تاکہ خطے کی صورتحال پر اتحادی ممالک سے مشاورت کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں ہمسایہ ممالک کو ترجیح دیتا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق امریکی سیکیورٹی اور لاجسٹک ٹیم پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے۔
مزید برآں، عباس عراقچی نے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور فوجی قیادت سے بھی رابطہ کیا ہے، جسے جاری سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔









