
امریکی محکمہ خارجہ نے دنیا بھر میں اپنے سفارتی مشنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اتحادی ممالک کو چینی کمپنیوں سے منسلک مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کے ممکنہ غلط استعمال اور سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کریں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس ہدایت میں خاص طور پر چینی اے آئی کمپنی DeepSeek کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض چینی ادارے امریکی اے آئی لیبارٹریز کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر کے نسبتاً کم لاگت والے متبادل ماڈلز تیار کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس عمل کو تکنیکی اصطلاح میں “ڈسٹلیشن” کہا جاتا ہے، جس میں بڑے اور پیچیدہ اے آئی ماڈلز سے حاصل شدہ معلومات کی مدد سے چھوٹے اور سستے ماڈلز تیار کیے جاتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ماڈلز بظاہر بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں، تاہم ان میں اصل سسٹمز جیسی مکمل صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ان میں حفاظتی کمزوریاں ہو سکتی ہیں، جو غلط معلومات یا جانبدار مواد کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد چین کی ٹیکنالوجی ترقی کو روکنا ہے۔
DeepSeek نے حال ہی میں اپنا نیا ماڈل V4 متعارف کرایا ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ Huawei کی چپ ٹیکنالوجی کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اسے چین کی تکنیکی خود انحصاری میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی کمپنی OpenAI نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ کچھ چینی ادارے اس کے ماڈلز کی نقل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم DeepSeek نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ماڈلز مکمل طور پر عوامی طور پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی ہیں۔
کچھ مغربی اور ایشیائی ممالک نے ڈیٹا سیکیورٹی کے خدشات کے باعث بعض چینی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، تاہم عالمی سطح پر ان ٹیکنالوجیز کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کے میدان میں کشیدگی جاری ہے، اور ماہرین کے مطابق آنے والے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے اس صورتحال پر مزید اثر انداز ہو سکتے ہیں۔








