
اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں ایک نیا اور کارآمد فیچر شامل کیا ہے جو صارفین کے لیے خاصی دلچسپی کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ نیا فیچر دراصل ایک علیحدہ ترجمہ ٹول ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے اندر ایک مخصوص ویب پیج کی صورت میں دستیاب ہے۔ اگرچہ چیٹ جی پی ٹی پہلے ہی مختلف زبانوں کے ترجمے کی سہولت فراہم کرتا تھا، تاہم اب ترجمے کے لیے ایک الگ سیکشن متعارف کرایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چیٹ جی پی ٹی ٹرانسلیٹ نامی یہ ٹول تحریری مواد، آڈیو ریکارڈنگز اور تصاویر میں موجود متن کا اردو سمیت 50 سے زائد زبانوں میں چند ہی لمحوں میں ترجمہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اس ٹول میں زبان کو خودکار طور پر پہچاننے کی سہولت بھی شامل ہے، جس سے صارفین کو زبان منتخب کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس فیچر کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ ترجمہ کرتے وقت سیاق و سباق، اندازِ تحریر اور موضوع کو مدنظر رکھتا ہے۔ صارف ایک کلک کے ذریعے تحریر کو کاروباری، تعلیمی یا عام فہم انداز میں ڈھال سکتا ہے، جو روایتی ترجمہ ٹولز سے اسے ممتاز بناتا ہے۔
ٹول کے مطابق یہ محاوروں، اصطلاحات اور زبان کے باریک نکات کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے ترجمہ زیادہ قدرتی محسوس ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اوپن اے آئی کا یہ نیا قدم گوگل ٹرانسلیٹ کے لیے ایک مضبوط مقابلہ ثابت ہوسکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گوگل بھی اب جیمنائی پر مبنی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہا ہے۔
فی الحال چیٹ جی پی ٹی کے ڈیسک ٹاپ ویب ورژن میں آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے ترجمہ ممکن نہیں، تاہم موبائل ویب ورژن میں یہ سہولت دستیاب ہے۔ اسی طرح تصاویر میں موجود متن کے ترجمے کی صلاحیت تو موجود ہے مگر فی الوقت تصویر اپ لوڈ کرنے کا آپشن نظر نہیں آتا۔
چونکہ یہ ٹول ویب پیج کی صورت میں دستیاب ہے، اس لیے اسے آف لائن استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی فی الحال براہِ راست گفتگو کے ترجمے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اوپن اے آئی نے اس فیچر کو خاموشی سے متعارف کرایا ہے اور تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں اسے مزید بہتر بنا کر باقاعدہ لانچ کیا جا سکتا ہے۔









