
نیند کے اوقات میں بے قاعدگی کو دل کی صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق رات کو سونے اور صبح جاگنے کے اوقات میں مسلسل تبدیلی دل کی بیماریوں اور فالج کے خطرے میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خصوصاً ہفتہ وار تعطیلات کے دوران دیر تک جاگنے اور معمول سے ہٹ کر سونے کی عادت صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تحقیق کے لیے 10 ہزار سے زائد افراد کی نیند سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا کی نیند کو جدید ٹریکنگ ڈیوائسز کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ تقریباً چھ ماہ تک ان کے سونے اور جاگنے کے اوقات، نیند کے دورانیے اور معیار کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق جن افراد کے سونے اور جاگنے کے اوقات میں باقاعدگی نہیں ہوتی، ان میں دل کی مختلف بیماریوں، ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیلیئر اور فالج کا خطرہ 20 سے 23 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔
اس کے برعکس روزانہ ایک مقررہ وقت پر سونے اور جاگنے والے افراد میں دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی کا خطرہ 28 فیصد تک کم پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے صرف آٹھ گھنٹے کی نیند پوری کرنا ہی کافی نہیں بلکہ نیند کا مستقل معمول برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ہفتہ وار تعطیلات میں دیر تک جاگنے اور نیند کے معمول کو اچانک تبدیل کرنے سے جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوسکتی ہے، جس کے اثرات دل اور خون کی شریانوں کیصحت پر پڑ سکتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ دل کی صحت بہتر رکھنے کے لیے ہر روز، حتیٰ کہ چھٹی کے دنوں میں بھی، سونے اور جاگنے کا وقت حتی الامکان ایک جیسا رکھا جائے۔









