حیدرآباد کی سڑک پر بجلی کے کھمبے چھوڑنے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ کا ’گرینڈ پلان‘ تنقید کی زد میں

0
33
حیدرآباد کی سڑک پر بجلی کے کھمبے چھوڑنے کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ کا ’گرینڈ پلان‘ تنقید کی زد میں

حیدرآباد: سندھ کے شہر حیدرآباد میں زیرِ تعمیر سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبے موجود رہنے کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے اس اقدام کو ایک منصوبہ بندی کا حصہ قرار دینے کے بعد حکومت کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک زیرِ تعمیر سڑک پر متعدد بجلی کے کھمبے موجود ہیں، جن کے درمیان سے گاڑیوں کی آمدورفت کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ اس صورتحال نے شہری منصوبہ بندی اور عوامی تحفظ کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر سے قبل زمین کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تھا، جبکہ بجلی کے کھمبے منتقل کرنے کے لیے حیسکو کو ادائیگی بھی کی گئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق رقم ملنے کے باوجود کھمبے منتقل نہیں کیے جا رہے تھے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حیسکو پر دباؤ بڑھانے اور معاملے کو منظرعام پر لانے کے لیے سڑک کی تعمیر شروع کروائی گئی تاکہ میڈیا کی توجہ حاصل ہونے کے بعد متعلقہ ادارہ کارروائی کرے۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی کے نتیجے میں 100 میں سے 25 کھمبے منتقل کیے جا چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور اپوزیشن حلقوں نے سخت ردعمل دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے درمیان اختلافات کا بوجھ شہریوں پر ڈالنا اور ممکنہ حادثات کا خطرہ پیدا کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

دوسری جانب حیسکو کے ترجمان صادق کُبر نے اس صورتحال پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معمول کے طریقہ کار کے مطابق سڑک کی تعمیر اور کارپٹنگ سے پہلے بجلی کے کھمبوں کی منتقلی ضروری ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ادارے کو اس انداز میں تعمیراتی کام آگے بڑھانے کی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

ادھر وزیراعلیٰ کے بیان کی ویڈیو سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے شیئر ہونے کے بعد حذف بھی کر دی گئی۔ واقعے نے سندھ حکومت کی انتظامی کارکردگی اور شہریوں کی حفاظت سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Leave a reply