معاملات ہاتھ سے نکل رہے تھے؟ شہباز شریف نے گورنر راج کے نفاذ کی وجہ بتادی

0
3
معاملات ہاتھ سے نکل رہے تھے؟ شہباز شریف نے گورنر راج کے نفاذ کی وجہ بتادی

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔

مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے صوبے کی اہمیت اور اس کے عوام کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام بہادر، باوقار اور محب وطن ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے صوبے میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا، جو جمہوری روایات کی پاسداری کی مثال تھی۔

وزیراعظم نے گزشتہ 13 برس کے دوران صوبے میں برسر اقتدار رہنے والی جماعت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں جامعات، اسپتالوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مزید کام ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک مختلف مسائل توجہ کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسی احتجاج اور دھرنوں کے باعث ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چینی صدر کا دورہ پاکستان ملتوی ہوا، تاہم 2015 میں ان کے دورے کے موقع پر اہم معاہدے طے پائے۔

گورنر راج کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ سیاسی مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹیوں کے درمیان 48 گھنٹے تک بات چیت جاری رہی، تاہم اتفاق رائے سے تیار ہونے والے مسودے کی حتمی منظوری نہ مل سکی۔

ان کے مطابق حکومت کے سامنے عوام، ملکی معیشت اور معاشرتی استحکام کے تحفظ کا معاملہ تھا، جس کے باعث فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

وزیراعظم نے توانائی اور سکیورٹی کے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں طویل لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ ان کا الزام تھا کہ 2019 اور 2020 کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں کی واپسی اور آبادکاری کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں دوبارہ اضافہ ہوا، جس سے پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سیاسی قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی دعوت دی گئی، تاہم ان کے بقول اس پیشکش پر مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔

معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر کام کیا ہے۔ ان کے مطابق عالمی حالات اور خلیجی خطے میں جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔

انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم سے اب تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں جبکہ عوامی ریلیف کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کم آمدنی والے طبقے کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور معیشت کو عدم استحکام سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔

Leave a reply