
اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور کسی بھی بااثر شخصیت کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران مختلف علاقوں میں سرکاری اور نجی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرایا گیا ہے۔
ان کے مطابق صرف سیکٹر ای الیون میں تقریباً 200 ارب روپے مالیت کی زمین قبضہ مافیا سے واپس حاصل کی گئی، جبکہ غیر قانونی قبضوں کے باعث متاثر ہونے والے شہریوں کو بھی ان کی جائیدادیں واپس دلائی گئی ہیں۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات قائم کرنے والوں کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کے عقب سمیت مختلف مقامات سے تجاوزات ختم کرائی گئی ہیں اور پشاور میں بھی اس حوالے سے کارروائیاں جاری ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ سیکیورٹی کے نام پر گرین بیلٹس یا عوامی راستوں کو بند کرنا درست نہیں۔ کسی فرد یا گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عوامی گزرگاہوں اور سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے خلاف ذاتی نوعیت کی گفتگو کی، تاہم وہ ان کے مؤقف کا ٹھوس جواب نہیں دے سکے۔
انہوں نے کہا کہ شہدا کی توہین کسی صورت قابل قبول نہیں اور شہدا سے منسوب جائیدادوں کے معاملے پر بھی جواب دہی ہونی چاہیے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاست یا مذہب کی بنیاد پر کسی کو غیر قانونی قبضے کا حق نہیں دیا جا سکتا۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے سڑکوں اور عوامی مقامات پر قبضے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت اس معاملے میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مولانا فضل الرحمان ان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیں گے اور سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں میں تبدیل کرنے سے گریز کیا جائے گا۔
وزیر مملکت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسلام آباد کو تجاوزات سے پاک کرنے کی مہم جاری رہے گی اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔









