ایران جنگ: امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے

ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے بڑھ گئے ہیں، جبکہ جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور تباہ شدہ فوجی سازوسامان کی جگہ نئے وسائل فراہم کرنے کے لیے مزید اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار جنگی اخراجات میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جولائی میں جنگ پر ہونے والے اخراجات کا تخمینہ 37.5 ارب ڈالر بتایا تھا، تاہم نئی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق استعمال شدہ گولہ بارود اور میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار خریدنے پر 29 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ تباہ ہونے والے طیاروں، ڈرونز اور دیگر فوجی سازوسامان کی تبدیلی کے لیے مزید 6 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہوسکتے ہیں۔
جنگی اخراجات میں اضافے کے ساتھ امریکی فوجی اڈوں کو ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے اخراجات بھی اہم ہیں، تاہم ان کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایران جنگ کے معاشی اثرات توانائی کی عالمی قیمتوں اور امریکی سیاست پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ بڑھتے ہوئے اخراجات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ری پبلکن جماعت کو کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔









