اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کے لیے مشکلات بڑھ گئیں، عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی

یروشلم: اسرائیل میں عام انتخابات کے ابتدائی تخمینوں نے ملک میں نئی سیاسی کشمکش کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کا اتحاد پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس کے باعث نئی حکومت کی تشکیل مشکل ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انتخابی ایگزٹ پولز میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سب سے بڑی انفرادی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے اتحادی بلاک کی مجموعی نشستوں میں نمایاں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق حکمران اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ میں تقریباً 52 نشستیں مل سکتی ہیں، جبکہ اپوزیشن جماعتیں مجموعی طور پر 49 نشستیں حاصل کر سکتی ہیں۔
حکومت بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ابتدائی نتائج میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو یہ تعداد حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، جس سے حکومت سازی کے لیے مذاکرات اور سیاسی اتحادوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
ان انتخابات میں عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ مشترکہ عرب فہرست اور رعام سمیت عرب سیاسی قوتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوئے تو پارلیمنٹ میں عرب نمائندگی نئی سطح تک پہنچ سکتی ہے اور حکومت سازی کے معاملات میں ان جماعتوں کا کردار اہم ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنے سیاسی مخالفین کے مقابلے میں حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم انہوں نے عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتخابی نتائج تبدیلی کی خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔
حتمی نتائج کے بعد اسرائیلی صدر حکومت سازی کے لیے موزوں امیدوار کو نامزد کریں گے۔ اگر کوئی رہنما مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا تو ملک میں سیاسی تعطل برقرار رہنے اور نئے انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔









