
اسمارٹ فون نے روزمرہ زندگی کو آسان بنانے کے ساتھ انسان کی توجہ، وقت اور سماجی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ پیغامات، سوشل میڈیا، خبروں اور مسلسل آنے والے نوٹیفکیشنز کے باعث بہت سے افراد بار بار فون چیک کرنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ تاہم، اس عادت کو تبدیل کرکے زندگی میں توازن پیدا کرنا ممکن ہے۔
امریکی فنکارہ اور سماجی کارکن آگسٹس لیم کا تجربہ اس حوالے سے توجہ حاصل کرتا ہے، جنہوں نے 2022 میں اسمارٹ فون کا استعمال ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق، فون پر زیادہ وقت صرف ہونے کے باعث وہ اپنی تخلیقی سرگرمیوں پر مطلوبہ توجہ نہیں دے پارہی تھیں۔
انہوں نے اپنی کتاب You Don’t Need a Smartphone: A Practical Guide to Downgrading Your Phone and Upgrading Your Life میں اسمارٹ فون کے بغیر زندگی گزارنے کے تجربات اور اس طرزِ زندگی کو اپنانے کے عملی طریقوں پر روشنی ڈالی ہے۔
فون سے دوری نے سماجی تعلقات کو کیسے متاثر کیا؟
لیم کے تجربے کے مطابق، اسمارٹ فون چھوڑنے کے بعد ان کے سماجی تعلقات کمزور ہونے کے بجائے مزید مضبوط ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ ملاقات کے دوران فون استعمال کرنے سے گریز کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی بات بہتر انداز میں سن سکتے ہیں، جس سے گفتگو زیادہ مؤثر اور بامعنی ہوجاتی ہے۔
آن لائن رابطوں پر انحصار کم ہونے کے بعد براہِ راست ملاقاتوں اور دوستوں سے ذاتی طور پر رابطہ کرنے کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح تعلقات کو محض سوشل میڈیا تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی زندگی میں وقت گزارنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
موبائل کا استعمال کم کرنے سے وقت کیسے بچایا جاسکتا ہے؟
فون کو چند لمحوں کے لیے چیک کرنا معمولی بات محسوس ہوسکتی ہے، لیکن بار بار ایسا کرنے سے دن کا خاصا وقت صرف ہوجاتا ہے۔ سوشل میڈیا دیکھنا، غیر ضروری پیغامات پڑھنا اور مسلسل نوٹیفکیشنز پر توجہ دینا دوسری سرگرمیوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔
لیم کے مطابق، اسمارٹ فون سے دوری اختیار کرنے کے بعد انہیں اپنے کاموں، ذاتی دلچسپیوں اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے زیادہ وقت میسر آیا۔ بعض معاملات میں انہوں نے ڈیجیٹل سہولتوں کے بجائے ڈاک خانے، لائبریری اور متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے جیسے متبادل طریقے بھی اپنائے۔
کیا اسمارٹ فون کے بغیر یادداشت بہتر ہوسکتی ہے؟
روزمرہ زندگی میں ہر کام کے لیے ڈیجیٹل نقشوں، یاد دہانیوں اور دیگر ایپس پر انحصار کرنے سے بعض افراد اپنی یادداشت استعمال کرنے کی مشق کم کرسکتے ہیں۔
راستے یاد رکھنے، ضروری معلومات ذہن میں محفوظ کرنے اور مسائل خود حل کرنے کی کوشش ذہنی سرگرمی کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسمارٹ فون چھوڑنے سے ہر شخص کی یادداشت لازماً بہتر ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے افراد کے تجربات مختلف ہوسکتے ہیں۔
ذہنی سکون اور توجہ میں اضافے کا امکان
مسلسل نوٹیفکیشنز اور اسکرین کی طرف بار بار متوجہ ہونے سے کام کے دوران توجہ متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے بھی فون کی موجودگی گفتگو میں خلل ڈال سکتی ہے۔
لیم کے تجربے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فون سے فاصلہ رکھنے سے موجودہ سرگرمی پر توجہ مرکوز کرنے اور آس پاس کے لوگوں کے ساتھ بہتر وقت گزارنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم، اسمارٹ فون چھوڑنے کے ابتدائی دن بعض افراد کے لیے مشکل ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں کتاب پڑھنا، چہل قدمی کرنا، موسیقی سننا یا دوستوں سے بالمشافہ گفتگو کرنا مفید متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔
موبائل فون کی عادت کم کرنے کے لیے عملی اقدامات
اسمارٹ فون کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا ہر شخص کے لیے ضروری یا ممکن نہیں۔ کام، تعلیم، سفر اور صحت سے متعلق بعض ضروریات کے لیے اس کا استعمال ناگزیر بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے میں چند سادہ اقدامات سے فون پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔
– نوٹیفکیشنز محدود کریں: غیر ضروری ایپس کے الرٹس بند کردیں تاکہ توجہ بار بار نہ بٹے۔
– فون چیک کرنے کا وقت مقرر کریں: سوشل میڈیا اور پیغامات کے لیے مخصوص اوقات مختص کریں۔
– کھانے اور ملاقاتوں کے دوران فون ایک طرف رکھیں: اس سے گفتگو اور باہمی تعلقات پر توجہ بڑھ سکتی ہے۔
– فارغ وقت کے متبادل تلاش کریں: مطالعہ، ورزش، چہل قدمی اور دیگر مشاغل کو معمول کا حصہ بنائیں۔
– ضرورت کے مطابق عام فون استعمال کریں: اگر کام اور ذاتی ضروریات اجازت دیں تو بنیادی کالز اور پیغامات کے لیے سادہ موبائل فون آزمایا جاسکتا ہے۔
– مختصر مدت کا تجربہ کریں: ایک ہفتے یا ایک ماہ تک غیر ضروری اسمارٹ فون استعمال کم کرکے اپنی عادات اور روزمرہ زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں۔
ٹیکنالوجی سے مکمل دوری ضروری نہیں
اسمارٹ فون جدید زندگی کی اہم ضرورت بن چکا ہے، اس لیے ہر شخص کے لیے اسے مکمل طور پر چھوڑنا آسان نہیں۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کی ضروریات پوری کرے، نہ کہ اس کا بیشتر وقت اور توجہ اپنے قبضے میں لے لے۔
فون کے استعمال میں توازن، حقیقی سماجی روابط اور دوسری سرگرمیوں کے لیے وقت مختص کرکے ڈیجیٹل زندگی کو زیادہ صحت مند بنایا جاسکتا ہے۔









