
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی نظام کو مفلوج کرکے یا دباؤ کے ذریعے سیاسی مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر وفاقی دارالحکومت کی جانب احتجاجی پیش قدمی کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے متعدد مواقع پر پی ٹی آئی کو سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی پیشکش کی، تاہم ریاستی اداروں اور نظام کو دباؤ میں لا کر مطالبات منوانے کی پالیسی قابل قبول نہیں۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی اختلاف کو دشمنی اور محاذ آرائی میں تبدیل کرنے سے معاشرتی برداشت متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران سیاسی مخالفین کے خلاف سخت اور توہین آمیز زبان کے استعمال کا رجحان بھی بڑھا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر نے خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے باعث پولیس اہلکاروں، سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، ایسے حالات میں صوبائی حکومت کی توجہ اسلام آباد کی جانب سیاسی مارچ پر مرکوز ہونا تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں جانیں گنوانے والے افراد میں خیبر پختونخوا کے شہری بھی شامل ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو متاثرہ خاندانوں اور شہدا کے لواحقین کے مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ سیاسی سرگرمی ہر جماعت کا حق ہے، تاہم قانون کی خلاف ورزی، ریاستی امور میں خلل اور سرکاری وسائل کے مبینہ سیاسی استعمال کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں اور حکومت کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی جس سے ملک میں امن و امان یا ریاستی نظام متاثر ہو۔









