روس میں لیبارٹری ملازم کی پراسرار موت، امریکا کو ممکنہ وبائی خطرے پر تشویش

0
10
روس میں لیبارٹری ملازم کی پراسرار موت، امریکا کو ممکنہ وبائی خطرے پر تشویش

روس کے سائبیریا خطے میں طاعون سمیت خطرناک بیماریوں پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے کے ملازم کی پراسرار موت نے امریکی حکام کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

امریکی حکام نے واقعے کی تفصیلات جاننے کے لیے روسی حکومت سے باضابطہ طور پر مزید معلومات طلب کی ہیں، جبکہ متعلقہ امریکی ادارے ممکنہ صحت کے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ارکتسک ریسرچ اینٹی پلیگ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ 28 سالہ ٹیکنیشن کی موت کے بعد واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان رابطہ ہوا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس سے اضافی معلومات مانگی گئی ہیں اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی صورتحال سے متعلق معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔

امریکی حکام کے مطابق سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ہلاک ہونے والا ملازم نیومونک پلیگ کا شکار ہوا یا اس کی موت کسی دوسری متعدی بیماری کے باعث ہوئی۔ حکام اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا زیرِ تحقیق کسی بیماری کے جراثیم میں جینیاتی تبدیلی کی گئی تھی۔

ارکتسک کا مذکورہ تحقیقاتی ادارہ صرف طاعون ہی نہیں بلکہ ہیضہ، اینتھراکس، بروسیلوسس اور دیگر سنگین بیماریوں پر بھی تحقیق کرتا ہے۔

روسی حکام نے اس ہسپتال کو قرنطینہ قرار دے دیا ہے جہاں متاثرہ ملازم زیر علاج تھا۔ مقامی رپورٹس کے مطابق تقریباً 200 افراد کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے فی الحال روس کے لیے نئی سفری پابندیوں کا اعلان نہیں کیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مزید قابلِ اعتماد معلومات ملنے تک صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل، محکمہ خارجہ، سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن اور دیگر متعلقہ ادارے بھی معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی روسی حکام سے رابطہ کرکے واقعے سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

ماہرین کے مطابق نیومونک پلیگ ایک بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی سنگین بیماری ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ تاہم مناسب اینٹی بایوٹکس کے استعمال سے اس کا علاج ممکن ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ معلومات کی بنیاد پر فوری طور پر بڑے پیمانے پر وبا پھیلنے کا خطرہ واضح نہیں، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے تاکہ ممکنہ خطرے کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

Leave a reply