
اٹک: پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے درمیان اہم زمینی رابطے کے باعث ضلع اٹک میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کر لیے ہیں۔
حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلوں کو پنجاب اور بعد ازاں اسلام آباد کی جانب پیش قدمی سے روکنے کے لیے اٹک کے مختلف داخلی و خارجی راستوں پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری تعینات کی گئی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران اٹک پل پر پی ٹی آئی کے قافلوں کا انتظار کرنے کا ذکر کیا تھا، جس سے اس علاقے کی حکومتی حکمت عملی میں اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اٹک کی جغرافیائی اہمیت
اٹک پنجاب اور خیبرپختونخوا کے درمیان ایک اہم زمینی رابطہ ہے۔ دریائے سندھ پر قائم اٹک پل، جی ٹی روڈ، ایم ون موٹروے کے چچ انٹرچینج اور دیگر مقامی رابطہ سڑکیں ایسے مقامات ہیں جہاں رکاوٹیں کھڑی کرکے بڑے قافلوں کی نقل و حرکت محدود کی جا سکتی ہے۔
اٹک خورد کے قریب جی ٹی روڈ کا حصہ بھی اہم سمجھا جاتا ہے، جہاں کنٹینرز یا اضافی نفری کی تعیناتی سے راولپنڈی اور اسلام آباد کی سمت جانے والی ٹریفک کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح چچ انٹرچینج کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ ایم ون موٹروے پشاور اور اسلام آباد کے درمیان تیز رفتار زمینی رابطہ فراہم کرتی ہے۔ اس مقام پر آمد و رفت محدود ہونے سے موٹروے کے ذریعے دارالحکومت کی جانب سفر متاثر ہو سکتا ہے۔
ہارون پل سمیت دیگر مقامی پل اور رابطہ راستے بھی انتظامیہ کی نظر میں ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اٹک کی تمام گزرگاہیں بند ہونے کے باوجود متبادل راستوں کی موجودگی کے باعث کسی بھی مارچ کو مکمل طور پر روکنے کی سو فیصد ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ہزاروں پولیس اہلکار تعینات
لانگ مارچ کے خدشے کے پیش نظر اٹک، راولپنڈی اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر تقریباً 30 ہزار پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاعات ہیں۔
پنجاب پولیس کے 25 ہزار سے زائد اہلکاروں کو اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ سندھ پولیس کے تقریباً دو ہزار اہلکار بھی اسلام آباد میں سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
اسلام آباد انتظامیہ نے پنجاب سے مزید 10 ہزار اہلکار طلب کیے تھے، تاہم مارچ کے شیڈول میں تبدیلی کے باعث اضافی نفری کی تعیناتی کا فیصلہ صورتحال کے مطابق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق سیکیورٹی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی فورس دوبارہ طلب کی جا سکتی ہے۔
اٹک میں 20 ہزار سے زائد اہلکار
راولپنڈی ریجنل پولیس آفیسر کی نگرانی میں اٹک میں پنجاب کے مختلف اضلاع سے آنے والے 20 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ان اہلکاروں کی نگرانی کے لیے متعدد سینئر پولیس افسران بھی اٹک پہنچے ہیں۔ پولیس نفری کو سرکاری اسکولوں، صحت مراکز اور دیگر سرکاری عمارتوں میں ٹھہرایا گیا ہے، جس کے باعث بعض تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تعینات اہلکاروں کے لیے رہائش اور خوراک کے انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ کھانے کے معیار کی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
راستے محدود، کاروباری سرگرمیاں متاثر
سیکیورٹی کے لیے مختلف شاہراہوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے سے عام شہریوں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے انتظامیہ سے سامان سے لدے کنٹینرز کو عارضی طور پر واپس لے جانے کی درخواست بھی کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے انتظامیہ کی جانب سے تاحال مکمل اجازت نہیں دی گئی۔
اٹک کے علاوہ حسن ابدال، صوابی انٹرچینج، ہزارہ موٹروے اور خوشحال گڑھ کی جانب جانے والے راستوں پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
مارچ کی پیش قدمی اور حکومتی تیاری
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے مختلف قافلے خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع سے پشاور کی جانب بڑھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ سیاسی سطح پر مذاکرات کے امکانات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، تاہم حکومت نے اٹک، راولپنڈی اور اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات برقرار رکھے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں اٹک اس لیے بھی اہم ہے کہ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب آنے والے بڑے قافلوں کے لیے یہاں موجود پل، شاہراہیں اور موٹروے انٹرچینجز نقل و حرکت کے اہم راستے ہیں۔
تاہم حتمی صورتحال کا انحصار پی ٹی آئی کے قافلوں کے روٹ، حکومت کی حکمت عملی، مذاکرات اور متبادل راستوں کی دستیابی پر ہوگا۔









