
لاہور: ماہرین صحت کے مطابق ذہنی دباؤ اور اضطراب کا اثر صرف انسانی ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ نظامِ ہاضمہ بھی اس سے متاثر ہوسکتا ہے۔ مسلسل تناؤ کی صورت میں بعض افراد کو معدے میں تیزابیت، پیٹ میں درد یا مروڑ، اپھارہ، قبض اور اسہال جیسی شکایات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق دماغ اور نظامِ ہاضمہ کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔ جب انسان دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو جسم میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ہاضمے کے معمول کے عمل کو متاثر کرسکتی ہیں۔ بعض افراد میں آنتوں کی حرکت تیز ہوجاتی ہے جبکہ کچھ لوگوں میں یہ عمل سست پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اسہال یا قبض کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعلق دو طرفہ بھی ہوسکتا ہے۔ مسلسل معدے یا آنتوں کی تکلیف انسان میں بے چینی اور ذہنی دباؤ بڑھا سکتی ہے، جبکہ ذہنی تناؤ بعض صورتوں میں پیٹ کی علامات کو مزید نمایاں کردیتا ہے۔ اریٹیبل باؤل سنڈروم (IBS) میں مبتلا افراد میں بھی ذہنی کیفیت اور ہاضمے کی علامات کے درمیان تعلق دیکھا جاتا ہے، تاہم ہر مریض میں اس کی وجہ صرف ذہنی دباؤ نہیں ہوتی۔
تناؤ کے دوران روزمرہ معمولات میں تبدیلی بھی معدے کی مشکلات بڑھا سکتی ہے۔ کھانے کے اوقات میں بے قاعدگی، ضرورت سے زیادہ چائے یا کافی کا استعمال، غیر متوازن غذا، بہت تیزی سے کھانا اور جسمانی سرگرمی میں کمی ہاضمے پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ معدے کی ہر شکایت کو ذہنی دباؤ کا نتیجہ سمجھنا مناسب نہیں۔ اگر پیٹ کی علامات مسلسل برقرار رہیں یا ان کے ساتھ وزن میں غیر واضح کمی، پاخانے میں خون، بار بار قے، نگلنے میں دشواری، شدید پیٹ درد، خون کی کمی یا رفع حاجت کے معمول میں نمایاں تبدیلی پیدا ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
صحت ماہرین کے مطابق متوازن غذا، مناسب نیند، باقاعدہ ورزش اور ذہنی سکون کے لیے روزانہ کچھ وقت نکالنا مجموعی صحت کے ساتھ نظامِ ہاضمہ کے لیے بھی مفید ہوسکتا ہے۔ چہل قدمی، سانس کی مشقیں اور دیگر پُرسکون سرگرمیاں بھی ذہنی دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔







