غزہ پر بنی فلم نے وینس میں تہلکہ مچا دیا، 25 منٹ تک جاری رہی داد

0
28
غزہ پر بنی فلم نے وینس میں تہلکہ مچا دیا، 25 منٹ تک جاری رہی داد

وینس فلم فیسٹیول میں غزہ کی صورتحال پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’نازا‘ کی نمائش نے ناظرین کو خاصا متاثر کیا، فلم ختم ہونے کے بعد شائقین نے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہو کر فلم سازوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریباً 80 منٹ دورانیے کی اس فلم میں غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ فلم میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اہداف کے تعین کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال نے شہری ہلاکتوں کے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔
’نازا‘ کی ہدایت کاری اسرائیلی صحافیوں یووال ابراہم اور ریچل زور نے کی ہے۔ دونوں اس سے قبل دستاویزی فلم ’نو ادر لینڈ‘ کے لیے 2025 میں آسکر جیت چکے ہیں، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کو موضوع بنایا گیا تھا۔
نئی فلم کی تیاری کے لیے فلم سازوں نے تقریباً تین برس تک تحقیق کی۔ اس دوران اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ بعض افراد کے انٹرویوز بھی کیے گئے۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان ذرائع کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جبکہ ان کی رازداری برقرار رکھنے کے لیے بعض انٹرویوز میں چہروں اور آوازوں کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا۔
فلم سازوں کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق سامنے آنے والی گواہی اور معلومات ناظرین کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ترغیب دیں۔
’نازا‘ وینس فلم فیسٹیول کے اعلیٰ ترین اعزاز گولڈن لائن کی امیدوار فلموں میں شامل ہے۔ فلم کو ملنے والی طویل اور غیر معمولی پذیرائی کے بعد اسے ایوارڈ کی مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جا رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ فیسٹیول کی جیوری کرے گی۔

Leave a reply