
ویب ڈیسک: مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی صلاحیتوں کے ساتھ اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ اے آئی کمپنی انتھروپک کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ماڈلز کو ممکنہ طور پر خطرناک حیاتیاتی تحقیق اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے متعدد اکاؤنٹس بند کیے ہیں۔
کمپنی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 30 دن کے دوران تقریباً 35 ایسی تحقیقی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا جن میں حفاظتی خدشات سامنے آئے۔ تاہم انتھروپک نے واضح کیا کہ ان تمام معاملات میں صارفین کے نقصان دہ ارادے کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا اور بعض سرگرمیاں جائز سائنسی تحقیق بھی ہو سکتی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض صارفین نے اے آئی کی حفاظتی پابندیوں سے بچنے یا اپنی تحقیق کی اصل نوعیت چھپانے کی کوشش کی۔ ان معاملات میں متعدی بیماریوں، وائرس کی خصوصیات، زہریلے مادوں اور جانوروں کے زہروں سمیت حساس حیاتیاتی موضوعات سے متعلق سوالات شامل تھے۔
انتھروپک کے مطابق ایک کیس میں ایک محقق چکن گونیا وائرس سے متعلق تحقیق کے لیے فنڈنگ کی درخواست تیار کرنے میں اے آئی سے مدد لے رہا تھا۔ ایک اور معاملے میں بیرونِ امریکا موجود محقق برڈ فلو وائرس کے ممالیہ جانوروں میں موافقت اور بیماری پیدا کرنے کی صلاحیت پر کام کر رہا تھا۔
رپورٹ میں آرتھوپاکس وائرسز سے متعلق تحقیق کا بھی ذکر کیا گیا، جس گروپ میں چیچک اور ایم پاکس جیسے وائرس شامل ہیں۔ کمپنی نے زہریلے مادوں اور جانوروں کے زہر سے متعلق کچھ سرگرمیوں کو بھی خطرے کے تناظر میں بیان کیا۔
انتھروپک کا کہنا ہے کہ بائیولوجیکل سائنس میں اے آئی کا استعمال بذاتِ خود خطرناک نہیں۔ مصنوعی ذہانت نئی ادویات کی تیاری، بیماریوں کی سمجھ بوجھ اور طبی تحقیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم یہی جدید صلاحیتیں غلط ارادے رکھنے والے افراد کے لیے خطرناک تحقیق کو آسان بنانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس کے نئے ماڈلز پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ سائنسی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں ممکنہ فوائد کے ساتھ خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اسی لیے حساس حیاتیاتی سوالات کے لیے حفاظتی نظام مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
انتھروپک نے بتایا کہ اس نے صرف بائیولوجیکل تحقیق سے متعلق سرگرمیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی بلکہ نگرانی، فراڈ اور روایتی ہتھیاروں سے متعلق اے آئی کے مبینہ غلط استعمال کو بھی روکا۔ کمپنی کے مطابق بعض کیسز میں ڈرونز اور میزائلوں سے متعلق کام کے لیے اس کے ماڈلز استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
رپورٹ میں بعض ایسے مبینہ واقعات کا بھی ذکر کیا گیا جن میں چینی حکومت سے منسلک سمجھے جانے والے عناصر نے مختلف مذہبی گروہوں کی نگرانی کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انتھروپک نے دعویٰ کیا کہ ان سرگرمیوں میں ایغور مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذہبی برادریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوششیں بھی شامل تھیں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ چین سے منسلک بعض آپریٹرز نے دیگر اے آئی ماڈلز سے متعلق سرگرمیوں میں بھی کلاڈ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان دعوؤں پر متعلقہ چینی حکام اور متعلقہ کمپنیوں سے مؤقف طلب کیے جانے کا بھی ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شمالی یمن میں موجود بعض عناصر نے میزائل نظام سے متعلق سافٹ ویئر تیار کرنے کے لیے بھی کلاڈ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ کمپنی نے ان عناصر کی براہِ راست شناخت نہیں کی۔
اے آئی کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے ٹیکنالوجی کی صنعت کے اندر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ بعض سابق محققین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کی صلاحیتیں موجودہ رفتار سے بڑھتی رہیں تو مستقبل میں حساس بنیادی ڈھانچے اور حیاتیاتی تحقیق کے شعبوں میں اس کے غلط استعمال کے خطرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ اے آئی کی سائنسی اور طبی صلاحیتوں کو انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے، جبکہ اس ٹیکنالوجی کو خطرناک مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں کو بروقت روکا جا سکے۔
انتھروپک نے اس مقصد کے لیے زیادہ مؤثر حفاظتی نظام کے ساتھ ساتھ اے آئی صنعت کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ تصدیق ضابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔









