ٹرمپ کا ایران کی اہم جوہری تنصیب کے خلاف کارروائی کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران کے ایک انتہائی محفوظ زیرِ زمین مقام کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کی جانب سے مذکورہ مقام پر جوہری سرگرمیاں جاری رہیں تو امریکا اسے نشانہ بنانے پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر نے ممکنہ کارروائی کی تاریخ یا اس کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی واضح تفصیل فراہم نہیں کی۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں اس مقام کو ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کے نام سے بیان کیا گیا ہے، جو نطنز کے جوہری مرکز کے قریب واقع بتایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہاں زیرِ زمین سرنگوں اور محفوظ تنصیبات کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے، جس کے باعث اسے ایران کے حساس جوہری پروگرام سے متعلق اہم مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں امریکی پالیسی پر عالمی سطح پر تشویش برقرار ہے۔ ممکنہ امریکی کارروائی کے حوالے سے واشنگٹن کی جانب سے فی الحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
روس، یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بھی امریکی کوششیں
دوسری جانب امریکی صدر نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز پر بات چیت کی جا سکے۔
امریکی وفد کی روسی حکام سے ملاقات کے بعد یوکرین جانے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی امریکی نمائندوں کے کیف پہنچنے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق وفد جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی سفارتی تجویز لے کر جا رہا ہے، تاہم جنگ بندی اور دیرپا امن کے معاملے پر ماسکو اور کیف کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی موجود ہیں۔
ایران سے متعلق سخت بیان اور روس، یوکرین تنازع کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں تیزی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی انتظامیہ بیک وقت کئی اہم عالمی بحرانوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔









