مکہ معاہدہ: بنگلادیش نے بھارت کو نام لیے بغیر کیا پیغام دے دیا؟

0
26
مکہ معاہدہ: بنگلادیش نے بھارت کو نام لیے بغیر کیا پیغام دے دیا؟

ڈھاکا: بنگلادیش نے کہا ہے کہ اگر مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کی جانب سے اسے رکنیت کی پیشکش کی گئی تو وہ اس پر سنجیدگی اور مثبت انداز میں غور کرے گا۔
بنگلادیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے پارلیمان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مکہ معاہدہ مسلم ممالک سے متعلق معاملہ ہے اور اس میں ممکنہ توسیع کا فیصلہ متعلقہ رکن ممالک ہی کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال بنگلادیش نے معاہدے میں شامل ہونے کے لیے باضابطہ درخواست دینے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم اگر موجودہ ارکان کی جانب سے شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے تو ڈھاکا اسے مثبت انداز میں دیکھے گا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مزید مسلم ممالک اس دفاعی تعاون کا حصہ بنتے ہیں تو مستقبل میں یہ معاہدہ مسلم دنیا کے لیے ایک وسیع مشترکہ دفاعی نظام کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔
اس سے قبل رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی عرب نے بنگلادیش کو بھی اس دفاعی تعاون میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ تاہم بنگلادیش کی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے حتمی رکنیت یا باضابطہ درخواست کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب بنگلادیشی اپوزیشن کے رہنماؤں نے بھی ممکنہ شمولیت کی حمایت کی ہے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ بنگلادیش اپنے قومی مفاد اور عوامی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے کرے گا۔
بنگلادیش کی نیشنل سٹیزن پارٹی نے بھی معاہدے میں ممکنہ شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے مسلم ممالک کے ساتھ دفاع، سیکیورٹی، ٹیکنالوجی، تجارت اور تزویراتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
بنگلادیش کی وزارت خارجہ کی جانب سے اس معاملے کے ممکنہ فوائد کا جائزہ لینے کا بھی عندیہ دیا جا چکا ہے۔مکہ معاہدہ: بنگلادیش نے بھارت کو نام لیے بغیر کیا پیغام دے دیا؟

Leave a reply