دماغ کی عمر روکنے کا راز؟ سائنسدانوں نے حیران کن سراغ ڈھونڈ لیا

0
23
دماغ کی عمر روکنے کا راز؟ سائنسدانوں نے حیران کن سراغ ڈھونڈ لیا

ایک نئی سائنسی تحقیق میں اشارہ ملا ہے کہ متعدد زبانیں بولنے والے افراد کے دماغ میں عمر بڑھنے کے اثرات نسبتاً کم نمایاں ہوسکتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق زبانوں کی تعداد کے ساتھ ساتھ انہیں سیکھنے کی عمر اور مہارت بھی دماغی عمر سے تعلق رکھتی ہے۔
یہ تحقیق اسپین کے باسک خطے میں کی گئی، جہاں بعض افراد ایک سے چار زبانیں بولتے ہیں۔ محققین نے دماغی سرگرمی کا جائزہ لینے کے لیے میگنیٹو اینسیفالوگرافی (MEG) ٹیکنالوجی استعمال کی اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے مختلف عمروں کے دماغی سرگرمی کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے پہلے مرحلے میں 728 افراد کے ڈیٹا سے دماغی عمر کا ایک ماڈل تیار کیا گیا، جسے بعد میں 144 افراد کے الگ گروپ پر آزمایا گیا۔
نتائج کے مطابق دو زبانیں بولنے والے افراد کی دماغی عمر، ایک زبان بولنے والوں کے مقابلے میں اوسطاً تقریباً 6 سال کم نظر آئی۔ تین زبانیں بولنے والوں میں یہ فرق تقریباً 7 سال جبکہ چار زبانیں بولنے والوں میں تقریباً 13 سال تک پہنچ گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کو اس معنی میں نہیں لینا چاہیے کہ زبانیں سیکھنے سے انسان کی حقیقی عمر رک جاتی ہے۔ بلکہ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کثیر لسانی سرگرمیاں دماغی صحت اور عمر سے متعلق بعض تبدیلیوں کے ساتھ ممکنہ طور پر تعلق رکھتی ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دوسری زبان کم عمری میں سیکھنے اور اس پر زیادہ عبور رکھنے والے افراد میں دماغی عمر کے حوالے سے یہ تعلق زیادہ نمایاں تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زبان سیکھنے کی مدت اور استعمال کی مہارت بھی اہم عوامل ہوسکتے ہیں۔
محققین اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا کثیر لسانی ہونے کے ایسے ہی اثرات الزائمر اور دیگر اعصابی تنزلی کی بیماریوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے سے ملتی جلتی زبانیں بولنے سے دماغی کنٹرول اور لسانی سرگرمیوں پر کیا اضافی اثر پڑتا ہے۔
تاہم ماہرین کے لیے یہ بات اہم ہے کہ موجودہ نتائج کو تعلق (association) کے طور پر دیکھا جائے، قطعی سبب کے طور پر نہیں۔ مزید تحقیق سے ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ متعدد زبانیں سیکھنا براہِ راست دماغی عمر میں کمی کا سبب بنتا ہے یا اس تعلق میں دیگر عوامل بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

Leave a reply