بھارت کا منفرد ریسٹورنٹ جہاں قبروں کے درمیان بیٹھ کر کھانا کھایا جاتا ہے

0
8
بھارت کا منفرد ریسٹورنٹ جہاں قبروں کے درمیان بیٹھ کر کھانا کھایا جاتا ہے

احمد آباد: بھارت کے شہر احمد آباد میں ایک ایسا منفرد ریسٹورنٹ موجود ہے جہاں گاہک کھانے پینے کے دوران اپنے اردگرد موجود قدیم قبروں کا بھی نظارہ کرتے ہیں۔

لال دروازہ کے علاقے میں واقع نیو لکی ریسٹورنٹ میں میزیں پرانی قبروں کے درمیان ترتیب دی گئی ہیں۔ قبروں کو دھاتی ریلنگ سے محفوظ رکھا گیا ہے، جبکہ ریسٹورنٹ انتظامیہ کے مطابق ان کی باقاعدگی سے صفائی بھی کی جاتی ہے اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے۔

قبریں ریسٹورنٹ کا حصہ کیسے بنیں؟

مقامی معلومات کے مطابق اس جگہ کا آغاز 1950 کی دہائی میں ایک چھوٹے سے چائے کے اسٹال سے ہوا۔ کاروبار میں اضافہ ہوا تو باقاعدہ ریسٹورنٹ قائم کیا گیا، تاہم وہاں موجود قبروں کو منتقل کرنے کے بجائے عمارت اور میزوں کی ترتیب انہی کے گرد رکھی گئی۔

حالیہ رپورٹس میں ریسٹورنٹ کے اندر تقریباً 26 قبروں کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہاں چائے اور بن مکھن سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے آئٹمز میں شامل ہیں، جبکہ دیگر کھانے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

خوش قسمتی سے جڑی روایت

اس ریسٹورنٹ کے حوالے سے مقامی سطح پر یہ تصور بھی پایا جاتا ہے کہ قبروں کو محفوظ رکھنے سے کاروبار کے لیے خوش بختی آتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض افراد اہم مواقع یا فیصلوں سے قبل یہاں چائے پینے کو خوش قسمتی سے جوڑتے ہیں۔

بھارتی مصور ایم ایف حسین بھی اس ریسٹورنٹ کے معروف گاہکوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ ریسٹورنٹ میں موجود ہونے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

دنیا میں ایسی مثالیں

قبرستانوں کے قریب یا ان سے منسلک کیفے کا تصور صرف احمد آباد تک محدود نہیں۔ جرمنی کے شہر برلن میں بھی ایسے متعدد کیفے موجود ہیں جہاں لوگ قبرستان کے ماحول میں کافی، کھانا یا چائے کے لیے آتے ہیں۔

تاہم قبروں کے درمیان کاروباری سرگرمی پر بعض حلقے اعتراض بھی کرتے ہیں اور اسے مرحومین کے احترام کے منافی سمجھتے ہیں۔

اس کے باوجود احمد آباد کا یہ منفرد ریسٹورنٹ اپنی غیر معمولی ترتیب اور سادہ مینو کے باعث آج بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے، جہاں ایک کپ چائے اور بن مکھن کے ساتھ قبروں کے درمیان بیٹھنے کا تجربہ اسے دوسرے ریسٹورنٹس سے بالکل مختلف بناتا ہے۔

Leave a reply