ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی ٹرے: ایک پوشیدہ مگر اہم صحت کا مسئلہ

0
6
ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی ٹرے: ایک پوشیدہ مگر اہم صحت کا مسئلہ

ہوائی سفر عموماً تیزی اور ہلچل کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ مسافر وقت کی پابندی کرتے ہوئے لمبی قطاروں، دستاویزات کی جانچ اور سیکیورٹی مراحل سے گزرتے ہیں۔ اس دوران سب سے زیادہ دھیان اس بات پر ہوتا ہے کہ سامان بغیر رکاوٹ آگے بڑھ جائے۔

لیپ ٹاپ، موبائل فون، مائع اشیاء اور دیگر سامان کو پلاسٹک کی ٹرے میں رکھنا سیکیورٹی چیک کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اسی مرحلے میں ایک اہم پہلو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے: صفائی اور جراثیم سے تحفظ۔

تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سیکیورٹی چیک میں استعمال ہونے والی ٹرے ہوائی اڈے کے ان مقامات میں شامل ہو سکتی ہیں جہاں سب سے زیادہ جراثیم پائے جاتے ہیں۔ یہ ٹرے روزانہ ہزاروں افراد کے استعمال میں آتی ہیں، لیکن انہیں ہر استعمال کے بعد مکمل طور پر صاف کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان ٹرے کی سطح پر ایسے وائرس موجود ہو سکتے ہیں جو نزلہ اور فلو جیسے امراض کا باعث بنتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ان کی سطح پر جراثیم کی مقدار دیگر عام مقامات سے زیادہ بھی ریکارڈ کی گئی۔

ہوائی اڈوں پر صرف سیکیورٹی ٹرے ہی نہیں بلکہ خودکار چیک اِن مشینیں، ادائیگی کے ٹرمینلز، سیڑھیوں کی ریلنگ اور پاسپورٹ کنٹرول کاؤنٹرز بھی ایسے مقامات ہیں جہاں لوگوں کا مسلسل رابطہ ہوتا ہے اور جراثیم کے پھیلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق اس صورتحال سے بچاؤ کے لیے سادہ احتیاطی تدابیر اپنانا بہت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان میں سب سے اہم ہاتھوں کی باقاعدہ صفائی اور سینیٹائزر کا استعمال ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سیکیورٹی چیک کے بعد نہ صرف اپنے ہاتھ صاف کریں بلکہ موبائل فون، پاسپورٹ اور دیگر استعمال ہونے والی اشیاء کو بھی جراثیم سے پاک کریں۔

یہ معمولی سی احتیاط سفر کے دوران بیماریوں کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر سکتی ہے اور صحت مند سفر کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

Leave a reply