ہنٹا وائرس: چوہوں سے پھیلنے والی خطرناک بیماری اور اس سے بچاؤ

0
4
ہنٹا وائرس: چوہوں سے پھیلنے والی خطرناک بیماری اور اس سے بچاؤ

ہنٹا وائرس وائرسز کا ایک گروہ ہے جو بنیادی طور پر چوہوں کی مختلف اقسام کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ وائرس چوہوں کو خود بیمار نہیں کرتا، تاہم ان کے پیشاب، فضلے اور تھوک کے ذریعے ماحول میں موجود رہتا ہے۔

انسان اس وقت متاثر ہو سکتا ہے جب وہ ایسی جگہوں کی صفائی کرے جہاں چوہوں کی آلودگی موجود ہو۔ خشک فضلے کے ذرات ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ وائرس مختلف علاقوں میں دو بڑی اقسام کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ ایک قسم پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے جبکہ دوسری گردوں اور خون کے نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔

شمالی امریکا میں پائے جانے والے کیسز میں یہ بیماری پھیپھڑوں میں شدید انفیکشن پیدا کرتی ہے، جس میں اموات کی شرح نسبتاً زیادہ ہو سکتی ہے۔ جبکہ یورپ اور ایشیا میں اس سے گردوں کی خرابی اور بخار کے ساتھ خون بہنے کی علامات سامنے آتی ہیں، جن میں شرح اموات مختلف سطحوں پر ہو سکتی ہے۔

اس بیماری کی علامات عام طور پر وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے ایک سے آٹھ ہفتوں بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ ابتدائی طور پر مریض کو تیز بخار، کپکپی، سر درد اور جسم کے پٹھوں میں درد محسوس ہوتا ہے۔

اگر بیماری پھیپھڑوں کو متاثر کرے تو چند دنوں میں کھانسی اور سانس لینے میں شدید دشواری پیدا ہو سکتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ گردوں والی صورت میں بلڈ پریشر میں کمی، اندرونی خون بہنا اور گردوں کا اچانک فیل ہونا ممکن ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس وائرس سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ چوہوں سے دور رہنا اور صفائی کے دوران احتیاط کرنا ہے۔ خاص طور پر پرانی یا بند جگہوں کی صفائی کرتے وقت خشک دھول اڑانے سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ ایسے مقامات پر صفائی سے پہلے جراثیم کش محلول استعمال کیا جائے اور دستانے اور ماسک پہن کر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔

فی الحال ہنٹا وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے۔ متاثرہ افراد کا علاج ہسپتال میں علامات کے مطابق کیا جاتا ہے، خاص طور پر انتہائی نگہداشت میں نگرانی کے ذریعے۔

Leave a reply