سابق شامی صدر بشار الاسد کو سزائے موت

دمشق: شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد، ان کے بھائی ماہر الاسد اور سابق سیکیورٹی افسر عاطف نجیب کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت سنادی ہے۔
عدالتی فیصلہ منگل کے روز سنایا گیا۔ یہ مقدمہ 2011 میں شام میں شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل تنازع سے متعلق ہے، جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور لاکھوں افراد کی بے دخلی ہوئی۔
عدالت نے بشار الاسد اور ماہر الاسد کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا۔ دونوں دسمبر 2024 میں باغی گروہوں کے دمشق میں داخل ہونے اور اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام چھوڑ کر روس منتقل ہوگئے تھے۔
مقدمے میں سابق سیکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت دی گئی۔ نجیب پر الزام ہے کہ انہوں نے 2011 میں جنوبی شام کے شہر درعا میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
عاطف نجیب اس وقت عدالت میں موجود تھے اور سخت سیکیورٹی کے حصار میں پیش کیے گئے۔ وہ شامی فوج میں بریگیڈیئر جنرل رہ چکے ہیں اور 2011 میں درعا کی سیاسی سیکیورٹی شاخ کی سربراہی کر رہے تھے۔
درعا میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف کارروائی کو شام میں شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کے اہم ابتدائی واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں یہ تحریک ملک گیر تنازع اور طویل خانہ جنگی میں تبدیل ہوگئی۔
شام میں جاری رہنے والے اس تنازع کے دوران لاکھوں افراد جان سے گئے، جبکہ بڑی تعداد میں شہری زخمی ہوئے اور کروڑوں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی۔
بشار الاسد کئی دہائیوں تک شام کی سیاست پر اثرانداز رہنے والے اسد خاندان کے دوسرے صدر تھے۔ ان کے والد حافظ الاسد نے 1971 سے 2000 تک شام پر حکومت کی، جس کے بعد بشار الاسد نے اقتدار سنبھالا۔
دسمبر 2024 میں باغی جنگجو دمشق میں داخل ہوئے اور اسد حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد بشار الاسد شام چھوڑ کر روس چلے گئے، جبکہ باغیوں نے دارالحکومت میں اہم سرکاری تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا۔
اس وقت سابق وزیرِاعظم محمد الجلالی نے پُرامن انتقالِ اقتدار اور ریاستی اداروں کے تسلسل کے لیے انتظامات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔









