
گوگل نے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں ایک نئے سکیورٹی فریم ورک کی بنیاد تیار کرلی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں اے آئی ایجنٹس کو موبائل ایپس کے اندر کام کرنے کی اجازت دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو مخصوص حدود میں رکھنا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اے آئی ایجنٹ کو ہر ایپ میں مکمل آزادی دینے کے بجائے یہ طے کیا جا سکے گا کہ وہ کون سا فنکشن استعمال کرسکتا ہے اور کن کاموں تک اس کی رسائی نہیں ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق یہ نظام اینڈرائیڈ کے App Functions فریم ورک سے منسلک ہے اور اس میں ایک خصوصی اجازت شامل ہے جسے Executive App Functions کہا جاتا ہے۔ یہ اجازت فی الحال عام صارفین کو اینڈرائیڈ کی معمول کی سیٹنگز میں دستیاب نہیں۔
اے آئی کو اسکرین کے بٹن دبانے کی ضرورت نہیں ہوگی
مستقبل میں اے آئی ایجنٹس کے لیے کسی ایپ کو انسان کی طرح اسکرین پر دیکھ کر بٹن تلاش کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ ایپ ڈویلپرز مخصوص کاموں یا فنکشنز کو اینڈرائیڈ کے سامنے متعارف کراسکیں گے، جنہیں مجاز اے آئی ایجنٹ براہِ راست استعمال کرسکے گا۔
مثلاً کسی ٹرانسپورٹ ایپ میں اگر رائیڈ بک کرنے کا فنکشن اے آئی کے لیے دستیاب ہو تو ایجنٹ پورا انٹرفیس کھولنے اور مختلف آپشنز تلاش کرنے کے بجائے متعلقہ فنکشن کے ذریعے کارروائی کرسکے گا۔
اس طریقہ کار سے اے آئی ایجنٹس کے لیے ایپس استعمال کرنا زیادہ مستحکم ہوسکتا ہے، کیونکہ ایپ کے انٹرفیس میں تبدیلی ہونے کے باوجود مخصوص فنکشن برقرار رہ سکتا ہے۔
سکیورٹی کو مرکزی حیثیت حاصل
اے آئی ایجنٹس کے زیادہ خودمختار ہونے کے ساتھ سکیورٹی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ایجنٹس مستقبل میں پیغامات بھیجنے، خریداری کرنے، ادائیگیاں مکمل کرنے یا صارف کی نجی معلومات استعمال کرنے جیسے کام کرسکتے ہیں۔
اسی لیے اجازتوں کو محدود اور واضح رکھنا انتہائی اہم ہوگا۔ نئے اینڈرائیڈ فریم ورک کے ذریعے گوگل ایک ایسا طریقہ وضع کرنے کی کوشش کررہا ہے جس میں اے آئی کو صرف وہی کارروائی کرنے کی اجازت ہو جو اسے دی گئی ہو۔
یہ تصور روایتی اسکرین کنٹرول پر مبنی اے آئی سے مختلف ہے، جہاں ایجنٹ اسکرین دیکھ کر بٹن تلاش کرتا اور خود کلک کرتا ہے۔ اس طرح کے نظام میں معمولی ڈیزائن تبدیلی بھی اے آئی کے کام میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
ابھی عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں
اگرچہ اینڈرائیڈ میں اس ٹیکنالوجی کی بنیاد موجود ہے، لیکن یہ فی الحال ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کے مختلف حصے ابھی آزمائشی یا پری ویو مرحلے میں ہیں اور رسائی بھی محدود رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب زیادہ تر اینڈرائیڈ ایپس نے ابھی ایسے فنکشنز فراہم نہیں کیے جنہیں اے آئی ایجنٹس براہِ راست استعمال کرسکیں۔ اس وجہ سے عام صارفین کے لیے اس نظام کے عملی فوائد فی الحال محدود ہیں۔
جیمنائی کے لیے اہم بنیاد
گوگل اپنے Gemini اے آئی کو مختلف ایپس اور سروسز کے ساتھ زیادہ مربوط بنانے پر مسلسل کام کررہا ہے۔ مستقبل میں اگر اے آئی ایجنٹس موبائل پر صارف کی جانب سے مختلف کام انجام دینے لگتے ہیں تو اینڈرائیڈ کا یہ اجازت پر مبنی نظام اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
فی الحال اسے مکمل صارف فیچر کے بجائے مستقبل کے اے آئی ایجنٹ ایکو سسٹم کے لیے تیار کیے جانے والے بنیادی ڈھانچے کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
گوگل نے بظاہر اے آئی ایجنٹس کو مکمل آزادی دینے کے بجائے پہلے ان کے لیے حدود اور اجازتوں کا نظام تیار کرنے پر توجہ دی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر فعال ہونے کے لیے اینڈرائیڈ ایپس، ڈویلپرز اور اے آئی سروسز کا مزید تیار ہونا ضروری ہے۔









