
اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی اور حبس کے باعث پیٹ کے امراض اور فوڈ پوائزننگ کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق بلند درجہ حرارت اور نمی بیکٹیریا کی افزائش کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں خراب یا غیر محفوظ غذا کے استعمال سے بیماریاں بڑھ جاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں خاص طور پر چٹنی، دہی، کٹے ہوئے پھل، گوشت اور اسٹریٹ فوڈ جلد خراب ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات غذا بظاہر ٹھیک نظر آتی ہے اور اس سے بدبو بھی محسوس نہیں ہوتی، لیکن اس میں موجود جراثیم صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق کھلے عام فروخت ہونے والا کھانا گرمیوں میں زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے کیونکہ وہ طویل وقت تک کھلی فضا میں پڑا رہتا ہے اور مناسب ٹھنڈک یا حفظانِ صحت کے انتظامات نہ ہونے کے باعث آلودہ ہو سکتا ہے۔
فوڈ پوائزننگ کی عام علامات میں متلی، قے، پیٹ درد، اسہال، بخار، سر درد اور جسمانی کمزوری شامل ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بعض کیسز سنگین شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ماہرین صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گرمیوں میں تازہ اور گھر کا پکا ہوا کھانا استعمال کریں، کٹے ہوئے پھلوں سے پرہیز کریں اور دودھ و دہی جیسی اشیاء کو ہمیشہ فریج میں محفوظ رکھیں۔
اس کے علاوہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صاف اور فلٹر شدہ یا اُبالا ہوا پانی استعمال کریں اور کھلے مشروبات یا غیر معیاری برف سے اجتناب کریں۔
ماہرین کے مطابق اگر کسی کھانے سے غیر معمولی بو یا خرابی محسوس ہو تو اسے استعمال کرنے کے بجائے فوراً ضائع کر دینا چاہیے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ گرمیوں میں احتیاطی تدابیر اپنانا نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مجموعی صحت کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔







