
ویب ڈیسک: جگر میں چربی جمع ہونے کا مسئلہ موجودہ دور میں عام ہوتا جا رہا ہے، تاہم طبی ماہرین کے مطابق اگر اس کا بروقت پتہ چل جائے تو طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیوں کے ذریعے جگر کی حالت میں نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
فیٹی لیور کی ابتدائی حالت میں وزن کو مناسب سطح پر لانا، متوازن غذا اختیار کرنا اور جسمانی سرگرمی بڑھانا جگر میں موجود اضافی چربی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق صحت یابی کا انحصار بیماری کی شدت پر ہوتا ہے۔ اگر جگر میں صرف چربی جمع ہوئی ہو اور سوزش یا فائبرسس شروع نہ ہوا ہو تو بہتری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، جبکہ طویل عرصے سے موجود بیماری میں مکمل بحالی مشکل ہوسکتی ہے۔
وزن میں معمولی کمی بھی فائدہ مند
جن افراد کا وزن زیادہ ہے، ان کے لیے جسمانی وزن میں تقریباً 5 فیصد کمی بھی جگر میں جمع چربی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ وزن میں مزید کمی بعض مریضوں کے لیے اضافی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔
تاہم ماہرین تیزی سے وزن کم کرنے کے بجائے بتدریج اور مستقل بنیادوں پر وزن کم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
خوراک میں کن چیزوں سے پرہیز کریں؟
فیٹی لیور کی صورت میں میٹھے مشروبات، اضافی چینی، سفید آٹے سے بنی اشیا، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس اور انتہائی پراسیس شدہ کھانوں کا استعمال محدود کرنا مفید ہوسکتا ہے۔
اس کے ساتھ متوازن غذا اختیار کرنا اور ذیابیطس، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر جیسے مسائل کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔
ورزش کا بھی اہم کردار
باقاعدہ جسمانی سرگرمی جگر کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔ تیز چہل قدمی، ایروبک ورزش اور جسم کو مضبوط بنانے والی ورزشیں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ورزش کے فوائد صرف وزن کم ہونے تک محدود نہیں۔ جسمانی وزن میں نمایاں کمی نہ ہونے کے باوجود باقاعدہ ورزش میٹابولک صحت اور جگر میں موجود چربی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
بہتری کتنے عرصے میں آسکتی ہے؟
ہر مریض میں جگر کی صحت بہتر ہونے کی رفتار مختلف ہوتی ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے بعد چند ہفتوں یا مہینوں میں جگر کی چربی میں کمی آنا شروع ہوسکتی ہے، تاہم اس کا اندازہ صرف جگر کے سائز سے نہیں لگایا جاسکتا۔
ضرورت کے مطابق خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ یا دیگر طبی معائنے کے ذریعے جگر کی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
کب تشویش کی بات ہے؟
فیٹی لیور اس وقت زیادہ سنگین شکل اختیار کرسکتا ہے جب چربی کے ساتھ جگر میں مسلسل سوزش اور خلیوں کو نقصان پہنچنے لگے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ عمل فائبرسس اور بعد ازاں سروسس کا سبب بن سکتا ہے۔
ذیابیطس، موٹاپے، انسولین کی مزاحمت اور دیگر میٹابولک مسائل والے افراد میں اس خطرے پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیٹی لیور کی تشخیص کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بیماری کی وجہ معلوم کرکے خوراک، وزن اور جسمانی سرگرمی میں مناسب تبدیلیاں لانے سے ابتدائی مرحلے میں جگر کی صحت کو نمایاں حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے۔









