
لندن: ماہرینِ فلکیات نے خلا میں ایک ایسے غیر معمولی سیارے کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر اپنے میزبان ستارے کی موت کے بعد اس کی خارج کردہ باقیات سے وجود میں آیا۔ سائنس دانوں نے اسے ’فینکس سیارہ‘ قرار دیا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ سیارہ ایک سفید بونے کے گرد گردش کر رہا ہے۔ سفید بونا اس وقت وجود میں آتا ہے جب سورج جیسے ستارے اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں اپنی بیرونی تہیں خلا میں خارج کر دیتے ہیں اور پیچھے ایک انتہائی کثیف مرکزی باقیات رہ جاتی ہے۔
عام طور پر سیارے کسی نئے بننے والے ستارے کے گرد موجود گیس اور گردوغبار کی ڈسک سے تشکیل پاتے ہیں، لیکن اس نظام کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں سیارے کی تشکیل ستارے کی موت کے بعد باقی رہ جانے والے مادے سے ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے ’دوسری نسل کا سیارہ‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
تحقیق کے سربراہ اور یونیورسٹی آف واروک سے وابستہ فلکی طبیعیات کے محقق جیمی ولیمز کے مطابق یہ سفید بونے کے گرد سیارے کی تشکیل کا پہلا معلوم کیس ہے۔ تحقیق کے نتائج سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئے ہیں۔
یہ نظام زمین سے تقریباً 250 نوری سال کے فاصلے پر سیٹس کے قریب واقع ہے۔ دریافت ہونے والے سیارے کا حجم مشتری سے کچھ زیادہ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جبکہ یہ اپنے سفید بونے کے گرد صرف 4.4 دن میں ایک مکمل گردش کرتا ہے۔
سیارہ اپنے میزبان ستارے کے انتہائی قریب ہے، اس لیے سفید بونے سے خارج ہونے والی شدید بالائے بنفشی شعاعیں اس کے بیرونی ماحول کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سیارے کے ماحول سے خارج ہونے والا کچھ مادہ دوبارہ سفید بونے کی جانب بھی کھنچ رہا ہے۔
کیمیائی ساخت نے اہم سراغ دے دیا
سائنس دانوں کو سیارے کی کیمیائی ساخت سے بھی اس کی غیر معمولی تاریخ کے شواہد ملے ہیں۔ اس کے ماحول میں نیوبیئم، تانبا اور زنک جیسے عناصر کی موجودگی نسبتاً زیادہ ہے، جو ایسے عناصر میں شامل ہیں جو بعض ستارے اپنی زندگی کے آخری مراحل میں خلا میں خارج کرتے ہیں۔
محققین کا خیال ہے کہ ستارے کی موت کے دوران خلا میں پھیلنے والے مادے نے ایک نئی ڈسک تشکیل دی، جس سے بعد میں یہ سیارہ وجود میں آیا۔
اس تحقیق کے لیے ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ، ٹی ای ایس ایس اور ایف یو ایس ای سے حاصل کردہ مشاہداتی ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ سائنس دان اب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے اس نظام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور موجودہ نتائج کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اگرچہ موجودہ دریافت شدہ سیارہ گیس کا دیو ہے اور زندگی کے لیے موزوں نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ایک دلچسپ امکان ضرور پیدا کرتی ہے۔ اگر سفید بونے کے گرد گیس کا بڑا سیارہ تشکیل پا سکتا ہے تو مستقبل میں چٹانی سیاروں کی تشکیل کا امکان بھی زیرِ غور آ سکتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق سفید بونے وقت کے ساتھ ٹھنڈے ہوتے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر کسی چٹانی سیارے کی تشکیل مناسب فاصلے پر ہو تو وہ طویل عرصے تک ایسے علاقے میں رہ سکتا ہے جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہونے کا امکان موجود ہو۔
ایک اور حیران کن فلکیاتی نظام
اسی دوران ایک الگ تحقیق میں ماہرین نے برجِ ثور کی سمت ایک اور انتہائی غیر معمولی نظام کا مشاہدہ کیا ہے، جو زمین سے تقریباً 300 سے 500 نوری سال دور ہے۔
اس نظام میں سورج کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد حجم رکھنے والا ایک سرخ بونا، ایک بھورے بونے کے انتہائی قریب گردش کر رہا ہے۔ بھورا بونا ایسا فلکیاتی جسم ہے جو عام ستارے کی طرح جوہری فیوژن شروع کرنے کے لیے کافی کمیت نہیں رکھتا، تاہم اس کا حجم زیادہ تر سیاروں سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔
مشاہدات کے مطابق بھورا بونا مشتری سے تقریباً 30 گنا زیادہ بڑا ہے، جبکہ دونوں اجسام ایک دوسرے کے گرد صرف 87 منٹ میں ایک چکر مکمل کرتے ہیں۔ ان کے درمیان فاصلہ زمین اور چاند کے اوسط فاصلے کے نصف سے کچھ زیادہ بتایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سرخ بونے کی طاقتور کششِ ثقل بھورے بونے سے مادہ کھینچ رہی ہے۔ اس مادے کے ستارے کی سطح پر پہنچنے سے ایک گرم خطہ بھی پیدا ہوا ہے۔
محققین کے مطابق دونوں اجسام کا فاصلہ اتنا کم ہے کہ ان کا پورا نظام سورج کے اندر بھی سما سکتا ہے۔ یہ مشاہدہ انتہائی قریب واقع ستارے اور بھورے بونے کے درمیان مادے کی منتقلی کے عمل کو سمجھنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔









