چین میں بے قابو اے آئی کا خدشہ، انسانی نگرانی برقرار رکھنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات

0
6
چین میں بے قابو اے آئی کا خدشہ، انسانی نگرانی برقرار رکھنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات

بیجنگ: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیزی سے خودمختار اور طاقتور ہونے کے ساتھ اس کے انسانی کنٹرول سے باہر جانے کے خدشات بھی بڑھنے لگے ہیں۔ چین نے بھی اس ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اے آئی کے لیے حفاظتی اصول اور ضابطے مزید سخت کرنے پر توجہ مرکوز کردی ہے۔

چین اور امریکا جدید اے آئی ٹیکنالوجی کی تیاری میں دنیا کے نمایاں ممالک ہیں، تاہم دونوں کے طریقہ کار اور پالیسیوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے حالیہ برسوں میں جاری کیے گئے متعدد رہنما اصولوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چینی حکومت اے آئی کی ترقی جاری رکھتے ہوئے اس پر انسانی نگرانی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

چینی حکام کو خاص طور پر ایسے جدید اے آئی ماڈلز کے ممکنہ خطرات پر تشویش ہے جو پیچیدہ کام خود انجام دینے اور محدود انسانی مداخلت کے ساتھ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق ایسے نظام اہم معلوماتی یا بنیادی ڈھانچوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

چین میں بعض ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ایسے اے آئی ماڈلز کی تیاری پر بھی زور دیا جا رہا ہے جن کے بنیادی اجزا ماہرین کے لیے قابلِ جائزہ اور قابلِ ترمیم ہوں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اوپن یا نسبتاً آزاد ماڈلز کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انہیں مختلف ادارے اپنی ضروریات کے مطابق تبدیل کرسکتے ہیں، جس سے ان کے استعمال پر مرکزی نگرانی مشکل ہوسکتی ہے۔

خودمختار اے آئی ایجنٹس پر بھی توجہ

چین نے اے آئی کے ایسے نظاموں کے لیے بھی حفاظتی اقدامات وضع کرنا شروع کردیے ہیں جنہیں عام طور پر اے آئی ایجنٹس کہا جاتا ہے۔ یہ نظام روایتی چیٹ بوٹس کے مقابلے میں زیادہ خودمختار ہوتے ہیں اور کئی مراحل پر مشتمل کام خود مکمل کرسکتے ہیں۔

چینی رہنما اصولوں کے مطابق ایسے نظاموں میں خطرناک یا غیر معمولی رویے کی فوری نشاندہی، ضرورت کے وقت انسانی مداخلت، نقصان دہ کارروائی روکنے اور خرابی کے بعد نظام کو محفوظ حالت میں واپس لانے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

ان اصولوں میں الگورتھم میں چھیڑ چھاڑ، معلومات کو دانستہ طور پر خراب کرنا، نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا اور خودکار کارروائی کے دوران انسانی کنٹرول ختم ہونے جیسے خطرات کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔

اے آئی کی خودمختاری کے بڑے خدشات

چین نے اپنے اے آئی سیفٹی فریم ورک میں اس امکان کو بھی زیر بحث لایا ہے کہ مستقبل میں انتہائی طاقتور اے آئی نظام خودکار طور پر وسائل تک رسائی حاصل کرنے، اپنی نقل تیار کرنے یا اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

ایسے منظرنامے میں انسانوں اور اے آئی کے درمیان وسائل اور اختیار پر تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ چین نے بعد کے حفاظتی فریم ورک میں اس امکان کو مزید نمایاں کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کے باوجود انسانی فیصلہ سازی اور حتمی اختیار برقرار رہنا چاہیے۔

چینی قیادت بھی اے آئی کے ممکنہ خطرات کو متعدد مواقع پر اجاگر کرچکی ہے۔ اعلیٰ حکام کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو انسانی مفاد کے مطابق استعمال کیا جائے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیر متوقع خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیاری کی جائے۔

عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت

اے آئی کی تیز رفتار ترقی کے باعث اس ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کا معاملہ اب عالمی سطح پر بھی اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ خاص طور پر فوجی شعبے میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے غلط فیصلوں، کشیدگی میں اضافے اور نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیاروں کی دوڑ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

چین کی موجودہ پالیسی سے مجموعی طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ بیجنگ اے آئی کی ترقی کو روکنے کے بجائے اس کے ساتھ حفاظتی نظام مضبوط کرنے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ اگر مستقبل میں اے آئی نظام موجودہ تصور سے کہیں زیادہ خودمختار اور طاقتور ہوگئے تو کیا موجودہ حفاظتی اقدامات انہیں مؤثر طور پر انسانی کنٹرول میں رکھنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے؟ اس سوال کا جواب صرف چین یا امریکا نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے اہم ہوگا۔

Leave a reply