پاکستان کی گیس سپلائی پر خطرے کے بادل، ایل این جی جہاز پر حملہ!

0
19
پاکستان کی گیس سپلائی پر خطرے کے بادل، ایل این جی جہاز پر حملہ!

اسلام آباد: قطر سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر پاکستان آنے والے بحری جہاز کو آبنائے ہرمز کے قریب نامعلوم اشیا سے ٹکرانے کے واقعے کے بعد اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑ گیا، جس سے پاکستان کو گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مارشل آئی لینڈز کے پرچم تلے سفر کرنے والا ایل این جی جہاز ’المیادہ‘ قطر سے گیس لے کر پاکستان کی جانب رواں دواں تھا کہ 30 اکتوبر کی شام اسے خلیجی سمندری حدود میں ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے جہاز کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارنے کے لیے ایرانی حکام سے رابطہ کیا تھا اور مبینہ طور پر تہران کی جانب سے گزرنے کی اجازت بھی مل گئی تھی۔ تاہم اجازت ملنے کے چند گھنٹوں بعد جہاز کو نقصان پہنچنے کا واقعہ پیش آیا۔

قطر کی ایل این جی ٹرانسپورٹیشن کمپنی ناقلیات نے بھی اپنے جہاز کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی کے مطابق المیادہ نامی جہاز خلیجی حدود میں سفر کے دوران نامعلوم اشیا سے ٹکرا گیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے میں جہاز کے کسی بھی اہلکار کو چوٹ نہیں آئی اور نہ ہی سمندر میں آلودگی یا ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ جہاز بدستور آپریشنل ہے جبکہ اس کے ممکنہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

واقعے کے بعد جہاز کی نقل و حرکت میں تبدیلی دیکھی گئی اور اس نے پاکستان جانے کے بجائے دوبارہ خلیج کی جانب سفر شروع کر دیا۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ جہاز مرمت یا معائنے کے بعد پاکستان روانہ ہوگا یا اس کی گیس کی کھیپ کی ترسیل کا منصوبہ تبدیل کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب اس واقعے کی ذمہ داری کسی ملک یا تنظیم نے قبول نہیں کی اور نہ ہی حملے کی نوعیت سے متعلق کوئی حتمی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

پاکستان اس سے قبل بھی سفارتی رابطوں کے ذریعے قطر سے آنے والے ایل این جی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے انتظامات کرتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ واقعے نے اس اہم سمندری راستے سے توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات ایک بار پھر نمایاں کر دیے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ایل این جی کی یہ کھیپ پاکستان نہ پہنچ سکی تو متبادل کے طور پر عالمی مارکیٹ سے گیس خریدنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے، جس سے درآمدی اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ خصوصاً ایسی صورت حال میں جب عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمتیں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔

تاہم پاکستان کے متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے تاحال اس کارگو کی منسوخی، متبادل انتظامات یا ملک میں گیس کی دستیابی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

Leave a reply