
اکثر لوگ پیکٹ پر درج تاریخ گزرنے کے بعد دودھ، بسکٹ، ڈبہ بند اشیا اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں فوراً ضائع کر دیتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق ہر ایسی چیز کو پھینک دینا ضروری نہیں ہوتا۔ کئی غذائیں تاریخ گزرنے کے بعد بھی محفوظ رہ سکتی ہیں، بشرطیکہ ان میں خرابی کی واضح علامات موجود نہ ہوں۔
ماہرینِ خوراک کا کہنا ہے کہ پیکنگ پر لکھی زیادہ تر تاریخیں خوراک کے معیار، ذائقے اور تازگی سے متعلق ہوتی ہیں، نہ کہ لازمی طور پر اس کے خراب یا مضر صحت ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی وجہ سے بہت سی اشیا مقررہ تاریخ کے بعد بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
خوراک کے ماہرین کے مطابق “بیسٹ بائے”، “یوز بائے” اور “سیل بائے” جیسی اصطلاحات صارفین میں اکثر الجھن پیدا کرتی ہیں۔ یہ تاریخیں عموماً اس مدت کو ظاہر کرتی ہیں جس دوران کسی چیز کا ذائقہ اور معیار بہترین رہتا ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ تاریخ گزرنے کے بعد کسی بھی غذا کو استعمال کرنے سے پہلے اسے غور سے چیک کیا جائے۔ اگر کھانے سے بدبو آ رہی ہو، رنگ تبدیل ہو گیا ہو، پھپھوندی لگی ہو یا پیکنگ خراب ہو تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
خشک اشیا جیسے بسکٹ، کریکرز، دالیں اور کئی ڈبہ بند غذائیں عموماً کم نمی کی وجہ سے زیادہ عرصے تک محفوظ رہتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا ذائقہ یا ساخت تبدیل ہو سکتی ہے، لیکن اگر وہ خراب نہ ہوئی ہوں تو اکثر صورتوں میں استعمال کے قابل رہتی ہیں۔
تاہم گوشت، مرغی، مچھلی اور دیگر جلد خراب ہونے والی غذاؤں کے معاملے میں زیادہ احتیاط ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی اشیا کو مقررہ مدت سے پہلے استعمال کرنا یا مناسب طریقے سے فریز کرنا بہتر ہوتا ہے تاکہ ان کی حفاظت برقرار رہے۔
ڈبہ بند سبزیاں، پھل، لوبیا اور دیگر مصنوعات بھی کئی عرصے تک محفوظ رہ سکتی ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ ڈبہ پھولا ہوا، زنگ آلود یا خراب نہ ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کو بلاوجہ ضائع کرنے کے بجائے سمجھ داری سے استعمال کرنا چاہیے۔ ضرورت کے مطابق خریداری، مناسب ذخیرہ اور کھانے کی حالت کو جانچنے کی عادت اپنانے سے نہ صرف پیسے بچائے جا سکتے ہیں بلکہ خوراک کے ضیاع میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔









