پاکستان نے اپالو پروگرام کی تیاری میں ناسا کی معاونت کی، ڈاکٹر طارق مصطفیٰ

0
6
پاکستان نے اپالو پروگرام کی تیاری میں ناسا کی معاونت کی، ڈاکٹر طارق مصطفیٰ

اسلام آباد: معروف پاکستانی خلائی سائنس دان ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے کہا ہے کہ چاند پر انسان کو پہنچانے والے امریکی اپالو پروگرام کی تیاری کے دوران پاکستان نے بالائی فضائی تحقیق سے متعلق اہم سائنسی معلومات فراہم کیں، جن سے منصوبہ بندی میں مدد ملی۔

ان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا اور سوویت یونین کے درمیان خلائی مقابلے کے دوران امریکا نے انسان کو چاند پر بھیجنے کا پروگرام شروع کیا۔ اس منصوبے کے لیے بحرِ ہند کے اوپر بالائی فضا سے متعلق معلومات درکار تھیں، لیکن اس خطے کا سائنسی ڈیٹا محدود تھا۔

ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے بتایا کہ ناسا نے بحرِ ہند سے ملحقہ ممالک کو تحقیق میں تعاون کی دعوت دی، جس پر پاکستان نے ابتدائی طور پر مثبت جواب دیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے کراچی سے تحقیقی راکٹ لانچ کیے، جن کے ذریعے بالائی فضا کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور یہ ڈیٹا ناسا کے ساتھ شیئر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات اپالو پروگرام کی تیاری میں معاون ثابت ہوئیں۔ ان کے بقول یہ تحقیقی سرگرمیاں 1962 میں مقررہ وقت کے اندر مکمل کی گئیں، جس سے منصوبے میں تاخیر سے بچنے میں مدد ملی۔

ڈاکٹر طارق مصطفیٰ نے مزید بتایا کہ بعد ازاں امریکا نے اپالو پروگرام کو مکمل کیا اور 20 جولائی 1969 کو پہلی مرتبہ انسان کو کامیابی سے چاند پر اتارا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں پاکستان کے سائنسی تعاون کو امریکی حکام نے بھی سراہا اور اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔

Leave a reply