پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ: چاروں صوبوں میں کب اور کن حالات میں منتخب حکومتیں ختم ہوئیں؟

0
23
پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ: چاروں صوبوں میں کب اور کن حالات میں منتخب حکومتیں ختم ہوئیں؟

اسلام آباد: پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کے دوران مختلف ادوار میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی جاتی رہی ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسے اقدامات کے نتیجے میں منتخب حکومتوں کے اختیارات متاثر ہوئے، جبکہ بعض مواقع پر صوبائی انتظام براہِ راست گورنر کے سپرد کردیا گیا۔

پاکستان میں صوبائی حکومتوں کے خلاف وفاقی مداخلت کا سلسلہ قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں شروع ہوا۔ جنوری 1949ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ افتخار حسین ممدوٹ کی حکومت ختم کرکے اختیارات گورنر کے حوالے کیے گئے۔ اس وقت سیاسی اختلافات اور انتظامی معاملات پر وفاق اور صوبائی قیادت کے درمیان تناؤ نمایاں تھا۔

گورنر راج اور ایمرجنسی میں فرق

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت مخصوص سنگین حالات میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی کی صورت میں وفاقی مداخلت سے متعلق ہے۔ گورنر راج کے دوران صوبائی انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل ہوسکتے ہیں، تاہم اسمبلی اور حکومت کی حیثیت متعلقہ آئینی حکم کے مطابق طے ہوتی ہے۔

پنجاب میں تین اہم ادوار

پنجاب میں 1949ء کے بعد 1999ء اور 2009ء میں بھی صوبائی حکومت کے اختیارات ختم یا محدود کیے گئے۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد وزیراعلیٰ شہباز شریف کی حکومت ختم ہوئی اور صوبے کا انتظام گورنر کے ذریعے چلایا گیا۔

فروری 2009ء میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ ختم ہونے پر صدر آصف علی زرداری نے گورنر راج نافذ کیا۔ گورنر سلمان تاثیر نے صوبے کا انتظام سنبھالا، جبکہ پنجاب اسمبلی برقرار رہی۔ یہ انتظام تقریباً دو ماہ بعد ختم کردیا گیا۔

سندھ میں سیاسی بحران اور گورنر راج

سندھ میں 1951ء میں وزیراعلیٰ ایوب کھوڑو کی حکومت برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ جون 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں وفاقی حکومت کی برطرفی کے ساتھ سندھ کی حکومت بھی ختم کردی گئی۔

اکتوبر 1998ء میں سابق گورنر حکیم محمد سعید کے قتل کے بعد صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے پر وزیراعظم نواز شریف نے سندھ میں ایمرجنسی نافذ کی۔ اس وقت وزیراعلیٰ لیاقت علی جتوئی تھے اور صوبائی انتظامی اختیارات گورنر معین الدین حیدر کو منتقل کردیے گئے۔

خیبر پختونخوا میں چار مرتبہ مداخلت

سابق صوبہ سرحد میں فروری 1975ء میں حیات محمد خان شیرپاؤ کے قتل کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت ختم کردی۔ فروری 1994ء میں وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت بھی آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کے ذریعے ختم ہوئی۔

اکتوبر 1999ء میں فوجی اقتدار کے قیام کے بعد وزیراعلیٰ مہتاب عباسی کی حکومت بھی ختم کردی گئی اور صوبے کا انتظام گورنر کے سپرد ہوا۔

اکتوبر 2026ء میں خیبر پختونخوا میں دوبارہ ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیے جانے کا اعلان سامنے آیا۔ وفاقی حکومت نے دہشت گردی اور امن و امان کی خراب صورتِ حال کو اس اقدام کی وجہ قرار دیا۔

بلوچستان میں چار بڑے واقعات

بلوچستان میں فروری 1973ء میں سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کی گئی۔ اس کے بعد دسمبر 1975ء میں جام غلام قادر خان کی حکومت کے اختیارات بھی گورنر کو منتقل کردیے گئے۔

اکتوبر 1999ء میں فوجی اقتدار کے قیام کے نتیجے میں وزیراعلیٰ میر جان محمد جمالی کی حکومت ختم ہوئی۔ جنوری 2013ء میں کوئٹہ میں بم دھماکوں اور ہزارہ برادری کے احتجاج کے بعد وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج نافذ کردیا، جو مارچ 2013ء میں ختم ہوا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ گورنر راج کے نفاذ میں امن و امان، سیاسی اختلافات اور فوجی مداخلت جیسے عوامل اہم رہے ہیں۔ ان اقدامات نے صوبائی خودمختاری اور وفاقی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کیے، جبکہ ان کی افادیت اور جمہوری نظام پر اثرات آج بھی بحث کا موضوع ہیں۔

Leave a reply