
پشاور: خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اعلیٰ سطح پر مشاورت جاری ہے۔ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں 12 حساس اضلاع کی سیکیورٹی، فوج کی ممکنہ تعیناتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے سے متعلق امور زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اعلیٰ عسکری حکام اور متعلقہ انتظامی افسران کی شرکت متوقع ہے۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کو مزید سہولیات دینے پر زور
گورنر فیصل کریم کنڈی کی صدارت میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی اجلاس میں پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی کارکردگی، درپیش چیلنجز اور ضروری وسائل کی فراہمی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر نے پولیس اہلکاروں کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہلکار عوام کے تحفظ کے لیے مشکل حالات میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید آلات، ضروری سہولیات اور مناسب وسائل فراہم کرکے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مؤثر بنایا جائے گا۔
انہوں نے پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، منصفانہ معاوضوں اور ان کے اہل خانہ کے محفوظ مستقبل کو بھی اہم قرار دیا۔
11 رکنی مشاورتی کونسل قائم
صوبے کے انتظامی معاملات چلانے کے لیے قائم کی گئی 11 رکنی مشاورتی کونسل کا پہلا اجلاس بھی گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں امن و امان کے قیام، سرکاری امور میں شفافیت اور بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی اختیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
کونسل میں مختلف شعبوں کے امور متعلقہ ماہرین اور نامزد اراکین کے سپرد کیے گئے ہیں، جن میں داخلہ، معیشت، قانون، تعلیم، صحت، معدنیات، صنعت و تجارت، مواصلات، مذہبی امور، توانائی اور اطلاعات شامل ہیں۔
12 اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی چیلنجز سے متاثرہ 12 اضلاع کے انتظامی معاملات کی نگرانی کے لیے الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ ادارہ گورنر اور چیف سیکریٹری کی نگرانی میں کام کرے گا اور متعلقہ اضلاع کی صورت حال سے وفاقی حکومت کو آگاہ رکھے گا۔
ان اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیوں، تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے خصوصی کونسل قائم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے افسر کو سونپے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
آئینی اقدامات اور سیکیورٹی حکمت عملی
وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اسلام آباد میں دی گئی بریفنگ کے مطابق، صوبے کے انتظامی معاملات کے لیے نئی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ فراہم کردہ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواجِ پاکستان کی معاونت سے متعلق حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔
حکام کی توجہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافے اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی فوج کی تعیناتی اور دیگر سیکیورٹی اقدامات کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔









