
پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے صحت کے نظام اور ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سرکاری و طبی ذرائع کے مطابق ملک بھر میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پنجاب اس وقت سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے جہاں ہزاروں افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ لاہور سمیت بڑے شہروں میں کیسز کی تعداد زیادہ ہے، جبکہ فیصل آباد، ملتان، سرگودھا، گجرات اور ننکانہ صاحب جیسے اضلاع میں بھی صورتحال تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا ملک میں دوسرے نمبر پر متاثرہ صوبہ ہے جہاں ہزاروں کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پشاور، بنوں اور دیگر اضلاع میں بھی نئے مریضوں کی تصدیق ہو رہی ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے۔
سندھ میں بھی صورتحال سنگین ہے، جہاں ہزاروں افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ کراچی سمیت مختلف شہروں میں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ نئے کیسز میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جس نے ماہرین کی فکر مزید بڑھا دی ہے۔
بلوچستان میں اگرچہ کیسز کی تعداد نسبتاً کم ہے، لیکن وہاں بھی مختلف علاقوں میں ایچ آئی وی کے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ کوئٹہ اور دیگر اضلاع میں کیسز کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وائرس اب دور دراز علاقوں تک پھیل چکا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہزاروں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں مرد، خواتین، خواجہ سرا اور بچے شامل ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بیماری صرف مخصوص علاقوں تک محدود نہیں رہی۔
طبی ماہرین کے مطابق اصل کیسز کی تعداد رپورٹ شدہ اعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بہت سے افراد ٹیسٹ نہیں کراتے یا اپنی بیماری سے لاعلم رہتے ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ملک میں مجموعی متاثرہ افراد کی تعداد کئی لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر معیاری خون کی منتقلی، اور صفائی کے ناقص انتظامات کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔








