جے ڈی وینس: ایران سے چھوٹے نہیں بلکہ بڑا اور جامع معاہدہ چاہتے ہیں ٹرمپ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی محدود سمجھوتے کے بجائے ایک بڑا اور جامع معاہدہ چاہتے ہیں۔
جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کو تقریباً ایک ہفتہ ہو چکا ہے اور یہ اب تک برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ایک معمول کے ملک کی طرح رویہ اختیار کرے تو امریکا اس کے ساتھ معاشی تعلقات بحال کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم واشنگٹن کی بنیادی ترجیح تہران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہوئی، لیکن جوہری پروگرام کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس سطح پر براہ راست بات چیت ہو رہی ہے۔
جے ڈی وینس نے اعتراف کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک دن میں ختم نہیں ہو سکتا، تاہم انہیں یقین ہے کہ ایرانی حکام بھی کسی معاہدے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایسا معاہدہ چاہتا ہے جس میں ایران نہ صرف ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کرے بلکہ خطے میں اپنی پراکسیز کی مالی معاونت بھی بند کرے۔
تقریب کے دوران مظاہرین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا اور غزہ کی صورتحال پر نعرے بازی کی۔ ایک مظاہرین نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے، جس پر وینس نے جواب دیا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
نائب صدر نے نوجوان ووٹرز کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر ناراضی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف رکھنے والوں کو سیاسی عمل میں زیادہ فعال ہونا چاہیے تاکہ ان کی آواز مؤثر طریقے سے سنی جا سکے۔
انہوں نے پوپ لیو کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات طاقت کا استعمال ناگزیر ہوتا ہے۔ انہوں نے World War II کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نازیوں کے خلاف جنگ میں بھی طاقت کا استعمال ضروری تھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ویٹیکن کے درمیان ایران سے متعلق پالیسیوں پر اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں مزید مذاکرات متوقع ہیں، جس سے مثبت پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔








