پاکستان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کے لیے پُرامید، سفارتی کوششیں جاری ہیں: ترجمان پاک فوج

0
25
پاکستان ایران امریکا کشیدگی میں کمی کے لیے پُرامید، سفارتی کوششیں جاری ہیں: ترجمان پاک فوج

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس حوالے سے پاکستان پُرامید ضرور ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں احتیاط بھی ضروری ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی قیادت خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی پیش رفت کو مثبت نظر سے دیکھ رہی ہے۔

ایران کے ممکنہ دورے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر دوبارہ تہران گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پس پردہ کوئی مثبت پیش رفت ہو رہی ہوگی۔ پاکستان کا مؤقف ابتدا ہی سے محتاط امید پر مبنی رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کچھ قوتیں ایسی بھی موجود ہیں جو ایران اور امریکا کے درمیان تنازع ختم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتیں اور امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔

ایران کو دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کا امکان

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔

ان کے مطابق اگر ایران یا کوئی دوسرا ملک مشترکہ دفاع اور علاقائی استحکام کے اصولوں سے اتفاق کرتا ہے تو اس کی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔

سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی مزید تعیناتی کے امکان پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ خطے کے حالات اور دونوں ممالک کی قیادت کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور مقدس مقامات، بالخصوص مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

پاکستان یمن تنازع کا حصہ نہیں، ترجمان

یمن کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان یمن میں جاری تنازع کا فریق نہیں ہے۔ ان کے مطابق وہاں جاری لڑائی بنیادی طور پر مقامی فریقوں کے درمیان ہے اور پاکستان اس جنگ میں شامل نہیں۔

خیبر پختونخوا میں انٹیلی جنس آپریشنز بڑھانے کا فیصلہ

انٹرویو کے دوران پاکستان کی داخلی سکیورٹی صورتحال اور خیبر پختونخوا میں سیاسی تبدیلیوں سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔

صوبے میں فوجی کارروائیوں کے ممکنہ دائرہ کار پر بات کرتے ہوئے فوجی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی بڑے پیمانے کی فوجی مہمات کے بجائے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی کارروائیوں پر مشتمل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) کی تعداد اور رفتار میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ مخصوص اہداف کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سکیورٹی حکمت عملی کا بنیادی مقصد دہشت گردی کا مؤثر تدارک اور امن و استحکام کا قیام ہے۔

Leave a reply