
مصنوعی ذہانت کے ذریعے کمپیوٹر کوڈ لکھنے والی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کمپنی نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے ایک معروف خلائی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ ممکنہ اربوں ڈالر کے معاہدے کی منظوری حاصل کر لی ہے۔
کمپنی، جس کے شریک بانی پاکستانی نژاد ٹیک ماہر ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت خلائی ادارے کو رواں سال کے اختتام تک کمپنی کو تقریباً 60 ارب ڈالر میں خریدنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے یہ خریداری مکمل نہ ہو سکی تو خلائی ادارہ مشترکہ منصوبوں کے عوض 10 ارب ڈالر ادا کرے گا۔
دونوں ادارے مل کر جدید مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کریں گے، جن کا مقصد کمپیوٹر پروگرامنگ کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خودکار انداز میں کوڈ لکھنے اور اس میں بہتری لانے کی صلاحیت مزید بہتر کی جائے گی۔
کمپنی کے شریک بانی کا تعلق کراچی سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی تعلیمی ادارے سے حاصل کی اور بعد ازاں بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ وہ بین الاقوامی سطح پر ریاضی کے مقابلوں میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
تعلیم کے دوران ہی انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک سافٹ ویئر تیار کیا، جو مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار طریقے سے کمپیوٹر کوڈ تیار کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں ہزاروں کمپنیاں اور لاکھوں پروگرامرز اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اس کی سالانہ آمدنی ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ تیزی سے ترقی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل ہو چکی ہے۔ چند ماہ قبل اس کی مالیت بھی کئی گنا بڑھ کر اربوں ڈالر تک پہنچ گئی تھی، جو اس کی غیر معمولی ترقی کا ثبوت ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے اہم ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ محنت، مہارت اور جدت کے ذریعے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔









